Meena & Christmas مینا اور کرسمس کا تحفہ wishenow

 Meena & Christmas مینا اور کرسمس کا تحفہ wishenow

Urdu Kahani For Children Meena & Christmas wishenow
مینا اور کرسمس کا تحفہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی شہر میں ایک لڑکی رہا کرتی تھی جس کا نام مینا تھا۔ اس کے ماں باپ کا انتقال ہو چکا تھا اور دُنیا میں اس کا کوئی نہیں تھا۔ نہ کوئی رشتے دار اور نہ ہی کوئی اپنا۔ بس ایک چیز اس کے پاس تھی اور اس کے رہنے کا ٹھکانہ ۔ یعنی اس کے ماں باپ اس کیلئے ایک گھر چھوڑ گئے تھے جہاں وہ اپنا سر چھپا سکتی تھی ۔ اس کی عمر بارہ برس تھی۔ کھانے پینے کا کوئی انتظام نہیں تھا اور نہ ہی پہننے کیلئے اچھے لباس۔ وہ سارا سارا دن لوگوں کے گھروں میں کام کیا کرتی۔


کسی کے گھر میں جھاڑو لگاتی اور کسی کے گھر میں جھوٹے برتن مانجھتی۔ اس طرح اسے کہیں سے کھانامل جاتا اور کسی گھر سے پہنے کیلئے پرانے کپڑے۔ سکول کا تو اس نے کبھی منہ ہی نہیں دیکھا تھا لیکن پھر بھی اس نے تھوڑا بہت پڑھنا لکھنا سیکھ لیا تھا۔ پہلے پہل تو لوگ اس سے مفت میں کام کرواتے رہے مگر پھر انہیں اس کی غربت کا احساس ہونے لگا اور وہ چند سکے اس کی ہتھیلی پر رکھنے لگے۔ وقت آہستہ آہستہ گزرتا رہا۔ لوگ اس سے بے پرواہ رہے۔ وہ گرمیوں میں پسینے میں ڈوبی رہتی اور سردیوں میں ٹھنڈ سے کانپتی رہتی ۔ وہ جب بیمار پڑ جاتی تو کئی دن تک گھر میں پڑی رہتی۔ جب ذرا ہمت بڑھتی تو پھر قریبی مفت ڈسپنسری میں جا کر دوالے لیتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے احساس ہو گیا کہ پیسہ مختلف مسائل کا حل ثابت ہوتا ہے لہذا اس نے اب لوگوں سے ملنے والے سکوں کو خرچ کرنے کے بجائے ایک چھوٹے غلے میں جمع کرنا شروع کر دیا۔


 دیکھتے ہی دیکھتے اس کے پاس کافی سارے کھنکھناتے ہوئے سکے جمع ہو گئے۔ وہ انہیں دیکھ کر بے حد خوش ہوتی اور سوچتی رہتی کہ وہ ان سے کیا چیز خریدے؟ مگر اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ عمدہ لباس پہنے کو جی تو لیلا تا مگر وہ تو ڈھیر سارے پیسوں کا ملتا تھا۔ اگر وہ عمدہ لباس خرید بھی لیتی تو اس سے کیا ہوتا؟ چند دن میں ہی وہ میلا کچیلا ہو کر بدصورت دکھائی دیتا۔ اسے دھونے کیلئے صابن اور سرف ضروری تھا۔ اگر وہ اسے لوگوں کے گھر لے جا کر دھوتی تو وہ اس سے لباس چھین بھی سکتے تھے، شاید وہ اس پر چوری کا الزام لگا دیتے۔ سوچتے سوچتے جب مینا خود پر چوری الزام لگتے دیکھتی تو اس کا بدن کانپ جاتا۔ وہ بڑی ایماندار اور سادہ طبیعت کی مالک لڑکی تھی۔ اس نے لباس کے خیال یہ کہہ کر خیر باد کہہ دیا کہ ایسے لباس کا کیا پہننا جو اسے چور بنا دے۔ جس کے دھونے کا سامان بھی اس کے پاس نہ ہو۔ اسی طرح وہ نرم اور خوبصورت جوتوں کا تصور بھی رد کر دیا کرتی۔ وہ جب بازار سے گزرتی تو ڈھیر ساری چیزیں اسے اپنی طرف کھینچتیں ۔

وہ رات رات بھر ان کے بارے میں سوچا کرتی ۔ آہستہ آہستہ اس کے پاس کافی پیسے جمع ہو گئے ۔ اب وہ اس حالت میں تھی کہ کوئی چھوٹی موٹی چیز خرید سکتی تھی مگر ہر بار خوف دلانے والے خیالات اسے کچھ بھی خرید نے سے باز رکھتے ۔ جب سردیوں کا آغاز ہوا تو ہوا میں خنکی بڑھ گئی۔ ٹھنڈ لگنے سے مینا کو کام ہو گیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ سردیوں میں ٹھٹھر نے کے بجائے وہ ایک عمدہ چمڑے کی جیکٹ خرید لے گی تاکہ سردیوں کا موسم سکون سے گزر جائے۔

اس نے غلے میں سے سکے نکالے اور شمار کئے۔ اس کے پاس پیسٹھ روپے جمع ہو چکے تھے۔ اس نے اگلی صبح بازار میں سے چمڑے کی جیکٹ کی قیمت دریافت کی تو معلوم ہوا کہ وہ اسی روپے سے کم ہرگز نہیں مل سکتی ۔ اس نے کوشش کی کہ کوئی نقص زدہ جیکٹ مل جائے ، جس سے وہ اپنا تن بدن ڈھانپ کر سردی سے بچ جائے ۔ جب مینا کا اصرار بڑھا تو دکاندار نے چڑ کر کہا۔ ”دیکھوڑ کی! اگر تم واقعی ستی جیکٹ خریدنا چاہتی ہو تو تمہیں کرسمس تک انتظار کرنا ہوگا۔ کرسمس پر کافی مقدار میں مال آتا ہے اور تاجر خصوصی رعایت دیتے ہیں۔ مینا کو اس کی بات پر یاد آ گیا کہ وہ واقعی سچ کہہ رہا تھا۔ کرسمس پر تو ہر چیز ہی سنتی ہوتی ہے۔ اسے کچھ دن مزید صبر کرنا چاہئے ۔ اس نے اپنی پرانی جرسی کو اچھی طرح صاف کیا اور پھٹی ہوئی جگہوں پر ٹانکے لگا کر اس کی مرمت کی۔ وہ کانپتے اور ٹھٹھرتے سردیوں کے ابتدائی مہینے گزارتی رہی۔ جب دسمبر کا آغاز ہوا تو بازار میں کرسمس کی خریداری کا بازار گرم ہو گیا۔ مینا نے دوبارہ اپنے پیسوں کو شمار کیا۔ اس کے پاس تہتر روپے جمع ہو چکے تھے۔

اس نے بازار میں مختلف دکانوں پر جا کر جائزہ لیا۔ وہاں عمدہ عمدہ سوئیٹر، جرسیاں اور جیکٹ، ہینگروں پر رنگی دکھائی دی۔ ان کے ساتھ ان کی قیمت کی پرچی بھی نتھی تھی ۔ وہ اکثر ان پر چیوں کو الٹ پلٹ کر دیکھتی۔ جیکٹ کی قیمت ابھی بھی زیادہ تھی۔ وہ ہفتہ بھر یونہی چکر کالتی رہی۔ دسمبر کے دوسرے ہفتے میں نیا مال بازار میں آیا اور قیمتیں یکا یک گرگئیں ۔ مینا کی تو اس دن خوشی کی انتہا نہ رہی جب اس نے اپنی پسندیدہ جیکٹ پر چالیس روپے کی پرچی پڑھی۔

 وہ جلدی جلدی گھر آئی اور غلے میں چالیس روپے نکالے۔ اس نے تین بار پیسوں کو گنا اور پھر واپس دکان پر جا پہنچی ۔ اس نے دکاندار کو اپنی پسندیدہ جیکٹ کی طرف متوجہ کیا اور چالیس روپے کی ریزگاری اس کی ہتھیلی پر رکھ دی۔ دکاندار نے حیرت سے ریز گاری کو دیکھا اور پھر گن کر مطلوبہ جیکٹ اس کے ہاتھ میں تھمادی۔ اب مینا کے پاس تیس روپے بچ گئے تھے۔ وہ اپنے لئے جوتے بھی خرید سکتی تھی۔ وہ ابھی دکان میں ہی تھی کہ اسے قریب کسی کی آواز سنائی دی۔

 اس نے مڑ کر دیکھا۔ وہ ایک باریش شخص تھا جس کی عمر کافی زیادہ دکھائی دیتی تھی ۔ چہرہ جھریوں کے جال میں الجھا ہوا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا۔ ”دیکھولڑ کے! کرسمس پر تحفے دینا بڑی عظمت کی بات ہے۔ غریب اور نادار لوگوں کو اگر کچھ خدا کی راہ میں دو گے تو یہ عمل بے کار نہیں جائے گا۔ یقین رکھو خدا اپنی راہ میں خرچ کرنے والے کو دگنا لوٹاتا ہے اور دل کو ایسا اطمینان بخشتا ہے کہ روح خوشی سے جھوم اُٹھتی ہے۔ "مینا اس کی بات سن کر ہنس پڑی اور زیرلب بڑ بڑائی ۔ آج کے دور میں کسی کو کیا پڑی ہے کہ وہ اپنی روح کو خوش رکھے؟ جسم کی ضرورت پوری کرنا اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے ۔ "مینا اب اگلی خریداری کے متعلق سوچ رہی تھی۔

 وہ انہی سوچوں میں گم دکان سے باہر نکل آئی۔ وہ شیشے کے بڑے بڑے شو کیسوں میں جھانک کر رنگ برنگی چیزیں دیکھ رہی تھی کہ اچانک اس کی نگاہ ایک چھوٹی بچی پر جا کر ٹھہر گئی جو ایک دکان کے پہلو میں سڑک کے کنارے بیٹھی سردی سے ٹھٹھر رہی تھی۔ اس کے بدن پر معمولی کپڑے تھے جو جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے تھے ۔ اس نے دونوں ہاتھ اپنی بغلوں میں چھپارکھے تھے اور گھٹنوں کو موڑ کر چھاتی سے لگایا ہوا تھا۔ مینا کو اس کی ابتر حالت دیکھ کر اپنا وقت یاد آ گیا۔ اس نے سر گھما کر بازار میں چلتے پھرتے لوگوں کی طرف دیکھا۔ مختلف عمروں کے بچے اپنے والدین کے ساتھ کرسمس کے سرخ در نگین ربن میں لیٹے بند تھے اُٹھائے ادھر سے ادھر جاتے دکھائی دیئے۔ اس کی نگا ہیں تمام لوگوں سے گزرتی ہوئی ایک بار پھر اس ننھے لڑکی پر جاکھہریں۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی طرف بڑھ گئی۔ اس کے قریب پہنچ کر وہ رُک گئی ننھی بچی نے سر اٹھا کر اس کی طرف پر نم نگا ہوں سے دیکھا۔

اس کے ہونٹ سردی سے سفید ہورہے تھے۔ ایک میلی سی پھٹی ٹوپی میں سے اس کے الجھے بال جھانک رہے تھے۔ مینا نے پیار بھرے لہجے میں اس سے پوچھا۔ ” تم اکیلی ہو؟ تمہارا اس دنیا میں کوئی نہیں ۔ نھے لڑکی کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے۔ اس نے سر جھکا کر دوبارہ گھٹنوں میں دبا لیا۔ مینا خود پر قابونہ رکھ پائی۔ اسے اپنی آنکھوں میں گرم پانی کا احساس ہوا۔ اچانک مینا نے اپنے ہاتھوں میں پکڑی ہوئی گرم چمڑے کی جیکٹ کھولی اور اسے ننھے بچی کے کندھوں پر ڈال دیا ننھی بچی نے چونک کر سر اٹھایا۔ مینا نے مسکرا کر کہا۔ ” آج سے تم میری چھوٹی بہن ہو۔ چلو اب گھر چلتے ہیں۔ ننھی بچی زار و قطار رونے لگی۔ مینا نے اسے تسلی دی اور کندھوں سے پکڑ کر اٹھایا۔ وہ اسے اپنے ہمراہ اپنے گھر لے آئی تھی۔ ننھے بچی بھوکی بھی تھی ۔ مینا نے چند سکوں سے اس کیلئے کھانا خریدا اور پھر دونوں نے مل کر کھانا کھایا۔ مینا نے اپنے کپڑوں میں سے ایک کسی قدر صاف لباس نکال کر اسے پہنایا اور پھر اپنی پسندیدہ جیکٹ بھی اسے دے دی۔ ننھے بچی کو جب بدن میں گرمائی کا احساس ہوا تو وہ جلد ہی سو گئی۔ مینا نے دوبارہ غلے میں پیسے گئے۔

 اس کے پاس بائیس روپے رہ گئے تھے۔ وہ ان پیسوں کے ہمراہ دوبارہ بازار آئی۔ اس نے تھوڑی کوشش کے بعد اپنے لئے ایک گرم سوئیٹر ڈھونڈ لیا جو ہیں روپے کا تھا۔ گرم جیکٹ نہ ہی گرم سوئیٹر بھی تو اس کے بدن کو سردی سے بچا سکتا تھا۔ وہ واپس لوٹی تو تھک چکی تھی ۔ دن بھر کام کی مشقت اور پھر سر درات میں بازار کے چکروں نے اسے واقعی تھکا دیا تھا۔ وہ لیٹ کر سوگئی ننھی بچی بے خبر نیند کی وادیوں میں گم تھی ۔ اگلی صبح اس نے ننھی بچی کو سمجھا کر گھر میں چھوڑا اور اپنے کام پر نکل گئی۔ رات کو واپس آتے ہوئے وہ اپنے ساتھ اس کیلئے بھی کھانا لائی ننھی بچی نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ مینا نے یہ عادت اپنا لی کہ وہ ہر روز ننھی بہن کیلئے کچھ نہ کچھ لاتی۔ کرسمس پر اسے کافی سارے پیسے ملے ۔

 اس نے جب گھر آکر انہیں شمار کیا تو پورے دس روپے نکلے۔ اس نے کرسمس پر اپنے اور نھی بہن کیلئے مزیدار کیک خریدا اور دونوں نے مل کر خوب کھایا۔ کرسمس کی رات جب وہ اپنے بستر پر لیٹی تو سوچ رہی تھی کہ واقعی خدا جب واپس لوٹاتا ہے تو عمدہ انداز میں لوٹاتا ہے۔ وہ تنہا تھی ، اس کا کوئی اپنا نہیں تھا۔ اسے اب ایک اپنا مل گیا تھا، اپنے جیسا بے سہارا۔ وہ تنہا رات کو چھت کو گھورتی رہتی تھی اور اب وہ باتیں کرتے کرتے سو جاتی نینھی لڑکی کے پاس ڈھیر ساری باتیں تھیں ۔ معصوم اور پیاری پیاری باتیں ۔ اسے کرسمس پر خدا کی طرف سے یہ تحفہ بڑا پسند آیا تھا منھی بہن کا تحفہ !