Stories For Kids | Nanha Batkha | ننھا بطخا | Moral Stories

Stories For Kids | Nanha Batkha | ننھا بطخا | Moral Stories

Stories For Kids | Nanha Batkha | ننھا بطخا | Moral Stories
 ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھر میں بہت سارے جانور رہا کرتے تھے ۔ گھر کی مالکن ایک بڑھیا تھی جسے پرندے اور جانور پالنے کا بے حد شوق تھا۔ مالکن بڑھیا کو جب کہیں سے کسی جانور کا بچہ مل جاتا تو وہ اسے بڑے پیار سے اپنے گھر میں رکھ لیا کرتی۔ وہ اسے اپنے بچوں کی طرح پیار کرتی اور خوب دیکھ بھال کیا کرتی ۔ ایک مرتبہ اسے ایک بلخ کا بچہ تحفے میں ملا۔ وہ کافی چھوٹا اور پیارا تھا۔ مالکن بڑھیا نے اسے ایک ڈربے میں بند کر دیا کہ کہیں دوسرے جانور خصوصاً بلی اسے نقصان نہ پہنچا دے۔

 وہ وقت پر اس کیلئے خوراک کا بندوبست کرتی اور اس کا بڑا خیال رکھتی ۔ نھا بطخا جب اس گھر میں آیا تو اسے تنہائی کا شدید احساس ستانے لگا۔ اسے اپنی ماں اور بہن بھائی بے حد یاد آتے تھے۔ وہ منہ بسورے اپنے ڈربے میں بند رہتا۔ مانو بلی کی نظر جب بھی اس پر پڑتی تو اس کے منہ سے رالیں ٹپکنے لگتیں ۔ وہ کئی بار اس کے ڈربے کے گرد چکر لگایا کرتی ۔ جب مانو بلی اس کے ڈربے کے پاس ہوتی تو نھا بطخا کافی ڈر جاتا۔ کچھ دن یونہی گزر گئے۔ گھر میں رہنے والا ایک مرغا ننھے بطلے کو دیکھتا رہا۔

 ایک دن اس سے نہ رہا گیا تو وہ اس کے ڈربے کے پاس چلا آیا اور اس سے اس کی اُداسی کا سبب دریافت کیا۔ نھا بطخا آہ بھر کر بولا ۔ ” تم کیسے خوش نصیب ہو کہ ہر وقت آزادی سے گھومتے رہتے ہو اور ایک میں ہوں کہ ہر وقت تنہا اس چھوٹے سے ڈربے میں بند رہتا ہوں ۔ مرغا یہ سن کر ہنس پڑا اور کہنے لگا۔ ارے نادان ! یہ ڈر بہ تمہاری حفاظت کیلئے ہے اگر تمہیں کھلی فضا میں چھوڑ دیا جائے تو تمہیں بلی کھا جائے گی یا پھر تم اپنے گھر کا راستہ بھول کر بھٹک جاؤ گے ۔‘نھا بطنی چڑ کر بولا ۔ کیا تم مجھے اتنا نا تواں سمجھتے ہو کہ بلی سے اپنی حفاظت نہ کر سکوں یا پھر تمہیں میری یادداشت پر بھروسہ نہیں ۔ مرغا ہنستا رہا اور بولا۔ ننھے میاں! تم اپنی عمر سے کچھ زیادہ ہی تیز بھاگنا چاہتے ہو ۔

ننھا بطنی اس کی ہنسی پر اور چڑ گیا اور تک کر بولا۔ میاں مرغے ! تم آزاد ہو اسی لئے میر انذاق اُڑا رہے ہو۔ میں تنہا ہوں، میرے بہن بھائی مجھ سے جدا ہیں اور میں یہاں بے بسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوں کوئی بات نہیں ! کبھی نہ کبھی تو یہ دن کٹیں گے ۔ ننھا بطی یہ نہیں جانتا تھا کہ مالکن بڑھیا قریب کھڑی یہ سب سن رہی تھی۔ اسے ننھے بطلنے کی باتوں پر بڑا دکھ ہوا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اسے اپنے پاس رکھنا درست نہیں۔ اس نے ڈر بہ کھولا اور بولی ۔ ننھے میاں اہتمہیں اس بات کا قلق ہورہا تھا کہ تم قید میں ہو۔ لو میں نے تمہیں آزاد کر دیا ہے۔ تم تمام گھر میں پوری آزادی سے گھوم پھر سکتے ہو .... اور بی مانو! تم بھی کان کھول کر سن لو۔ اگر ننھے میاں کو کوئی نقصان پہنچا تو میں تمہیں ہمیشہ کیلئے اپنے گھر سے نکال دوں گی ۔

 نھا بطخی آزادی پا کر بے حد خوش ہوا۔ وہ اب سارا سارا دن گھر میں دندناتا رہتا۔ تھوڑے ہی دن گزرے کہ نھا بطنی پھر سے اُداس دکھائی دینے لگا۔ اب اُداسی کا سبب یہ تھا کہ وہ اس گھر کی فضا سے اکتا گیا تھا۔ اسے گھر بھی قید خانہ نظر آنے لگا۔ اس بار کسی نے اس پر توجہ نہیں دی کیونکہ گھر میں نیا پرندہ آ گیا تھا۔ سب کی نظریں اسی پر جمی رہتی تھیں۔ نھا بطخا دوسروں کی لاپروائی سے مزید دکھی ہوا۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ اسے یہ گھر چھوڑ کر کہیں اور چلنا چاہئے ۔

ایک دن وہ موقعہ پا کر گھر سے باہر نکل آیا۔ جب وہ گھر کے صحن کو عبور کر رہا تھا تو اسے مینڈکوں کا غول دکھائی دیا جو قریبی حوض میں رہتے تھے۔ مینڈکوں نے اسے دیکھ کر ٹرٹر ٹر کی آوازیں نکالیں۔ ننھے بطے نے ناگواری سے انہیں دیکھا۔ ایک مینڈک گلا پھاڑ کر بولا ۔ ننھے میاں! کدھر جارہے ہو؟ ننھے بطخے نے جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ دوسرا مینڈک جلدی سے بولا۔ ننھے میاں ! با ہر مت جاؤ ورنہ راستہ بھٹک جاؤ گے۔ ننھا بطخارک گیا اور منہ گھما کر بولا۔

” تم مجھے بے وقوف مت سمجھو۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط !“ مینڈکوں نے کندھے اچکائے اور واپس حوض میں چلے گئے۔ ننھا بطخا صحن عبور کر کے باہر گلی میں نکل آیا۔ جب وہ گلی کی نکڑ پر پہنچا تو اسے بطخوں کا ایک جوڑا دکھائی دیا جو جسامت میں اس سے کافی بڑا تھا۔ ننھا بطخا آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس جوڑے کے قریب پہنچا۔ دونوں بطخوں نے بھی ننھے بطے کو دیکھ لیا تھا۔ وہ دونوں ٹھہر گئے اور جب وہ قریب آیا تو انہوں نے پوچھا۔

ننھے میاں ! تم تنہا کہاں جا رہے ہو؟ ننھے بھلے نے جواب دیا۔ میں اپنے ماں باپ کو تلاش کرنے جا رہا ہوں ۔ وہ دونوں ہنس پڑے۔ مگر ننھے میاں! تم انہیں کہاں تلاش کرو گے۔ وہ تو فضاؤں میں اُڑتے رہتے ہیں اور کبھی یہاں اور کبھی وہاں ان کا تو خود کوئی ٹھکانہ نہیں۔‘نھا بطخا یہ سن کر سوچ میں پڑ گیا۔ " کیا تم اس بارے میں میری کوئی رہنمائی کر سکتے ہو؟ ننھے بھلے نے پوچھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ایک بولا ۔ اچھا یہ بتاؤ! کیا تم نے اپنے ماں باپ کو دیکھا ہے کبھی ؟

 ننھے بطخ نے انکار میں سر ہلایا۔ میں جب پیدا ہوا تو خود کو ایک گھر کے ڈربے میں پایا ۔ یہ سن کر بطخوں کا جوڑا گہری فکر میں ڈوب گیا۔ کچھ دیر کے ووبعد ایک بولا ۔ دیکھو نھے میاں ! حقیقت یہ ہے کہ تم اپنے ماں باپ کے گھونسلے میں نہیں پیدا ہوئے بلکہ کسی نے ان کا انڈا چرا کر مصنوعی طریقے سے تمہیں پیدا کیا ہے۔ اس طرح تم بن ماں باپ کے بچے ہو! بہتر یہی ہے کہ تم اس چکر میں مت پڑو بلکہ واپس اسی گھر لوٹ جاؤ اور وہیں اطمینان کی زندگی بسر کرو ۔ نھا بطخا یہ سن کر افسردہ ہو گیا۔ اس نے کہا۔

 ”میں اس قید خانے میں واپس نہیں جاؤں گا بلکہ اپنے ماں باپ کو تلاش کر کے ہی دم لوں گا۔ تم اگر تھوڑی سی مہربانی کرو تو مجھے یہ بتا دو کہ میرے ماں باپ دیکھنے میں کیسے لگتے ہیں؟ اس کی بات سن کر وہ دونوں بطے حیران ہوئے اور انہوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر نھا بطخا اپنی ضد پر اڑا رہا۔ ننھے بھلنے کے اصرار پر انہوں نے بتایا کہ اس کے ماں باپ دودھ جیسے سفید رنگ کے پرندے ہیں اور اور پانی کے تالابوں کے کنارے رہتے ہیں اور جب ان کا دل بھر جاتا ہے تو وہ ایک جگہ سے اُڑ کر دوسری جگہ چلے جاتے ہیں۔

ننھا بطنی ان کی بات سن کر مطمئن ہو گیا کہ وہ اب اپنے ماں باپ کو ضرور ڈھونڈ نکالے گا۔ اس نے ان سے رخصت لی اور نا معلوم منزل کی طرف چل پڑا۔ وہ چلتا رہا۔ شام کا وقت قریب آیا تو وہ ایک بڑے باغ میں پہنچ گیا۔ وہ سارے دن کا بھوکا پیاسا تھا ماں باپ کی تلاش میں وہ ایسا کھویا کہ اسے خود کا ہوش نہیں رہا۔ باغ میں ایک چھوٹا سا تالاب تھا۔ وہ اپنی تھکن مٹانے کیلئے پانی میں اُتر گیا۔ پانی کی تازگی سے اس کی تکان دور ہوگئی۔ اس نے کئی چھوٹی مچھلیاں پکڑ کر اپنی بھوک مٹائی۔

اچانک اس کی نگاہ آسمان پر پڑی تو اس نے دیکھا کہ سفید بطخوں کا غول فضا میں اُڑ رہا تھا۔ غروب ہوتے سورج کی زرد روشنی میں وہ بے حد خوبصورت دکھائی دے رہے تھے۔ ننھے بطحے کو یہ خیال آیا کہ یقینا انہی میں اس کے ماں باپ بھی ہو سکتے ہیں۔ وہ گلا پھاڑ کر چیخا مگر اس کی آوازان تک نہ پہنچ سکی۔ وہ کافی دیر تک انہیں اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر وہ بری طرح ناکام رہا۔ آخر تھک ہار کر وہ تالاب کے کنارے لیٹ گیا۔ اندھیرا پھیلنے لگا۔ اسے اب ڈر لگ رہا تھا۔

 جھینگر کی آواز میں فضا میں گونج رہی تھیں ۔ وہ ڈر اور تکان کے بیچ میں سو گیا۔ صبح اس کی آنکھ کھلی تو سفید بطخوں کا غول دوبارہ دکھائی دیا۔ وہ انہیں پکارنے لگا گر کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ ایسے ہی دن گزرتے گئے ۔ نھا بطخا اسی امید پر شاید کسی دن اس کے ماں باپ اس تالاب پر آجائیں گے اور اسے پہچان لیں گے، وہیں پڑا رہا۔ وہ روزانہ سفید بطخوں کے غول کو آوازیں دیا کرتا اور تھک ہار کر سو جاتا۔ دن مہینوں میں بدل گئے ۔ گرمیوں کا موسم گزر گیا اور سردیاں شروع ہو گئیں۔ ننھا بطنی سرد موسم سے نبرد آزما رہا۔

 دیکھتے ہی دیکھتے تالاب کا پانی برف میں بدل گیا۔ کھانے کیلئے مچھلیاں اب نہیں ملتی تھیں۔ کچھ دن تو ننھے بطخ نے سرد پتے کھا کر گزارا کیا مگر جلد ہی اس کے بدن میں کمزوری پیدا ہونے لگی۔ ہرا بھرا باغ برف کی سفیدی میں ڈھک گیا۔ ننھے بطے کا چلنا پھرنا دو بھر ہوتا گیا۔ وہ کھڑا ہوتا تو بھوک کے مارے چکر آتے اور سردی سے اس کا رواں رواں کا نپتا رہتا۔ اب تو اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا پھیلنے لگا اور ایک دن تو وہ نڈھال ہو کر بے ہوش ہو گیا۔ اتفاق سے اس دن ایک بوڑھا شخص باغ میں چلا آیا۔

 اس نے جب ننھے بطے کو تالاب کے کنارے بے ہوش دیکھا تو اسے بڑا ترس آیا۔ اس نے اسے اپنے کپڑوں میں لپیٹا اور گھر لے آیا۔ گھر میں دہکتے آتشدان کی گرمائی سے ننھے بطخے کو بڑا سکون ملا۔ جب وہ بیدار ہوا تو خود کو گھر میں بڑا حیران ہوں بوڑھے شخص نے اسے کھانے کیلئے بن کا ٹکڑا بھی دیا۔ اس نے جلدی جلدی وہ کھایا۔ پیٹ میں جب غذا م پہنچی تو بڑ اسکون ملا۔ اس نے بوڑھے شخص کو فرشتہ جانا اور اس گھر کو خود کیلئے محفوظ پناہ گاہ۔ شام کے وقت بوڑھے شخص نے اسے عمدہ کھانا کھلایا اور اس سے حالات دریافت کئے۔ ننھے بطخے نے ساری کہانی اسے سنا دی۔ بوڑھا اس کی بات سن کر بولا۔ ننھے میاں ! یہ بات صحیح ہے که انسان مختلف پرندوں کے انڈے لے کر انہیں سینچتے ہیں

اور بچے نکالتے ہیں۔ ان کے ماں باپ وہی ہوتے ہیں، وہی ان کیلئے غذا کا بندو بست کرتے ہیں اور وہی پالتے ہیں ۔ تم نے اپنے گھر سے نکل کر کوئی اچھا کام نہیں کیا۔ جب تم بڑے ہو جاتے تو تمہیں خود سمجھ آجاتا کہ اپنی زندگی کیسے بسر کرنا ہے۔ ننھے بطخے کو اس کی بات سے اتفاق نہیں تھا۔ بوڑھا مزید بولا ۔ اگر تم اپنے گھر میں رہتے تو تمہیں یہ معلوم ہو جاتا کہ موسم بدلتے رہتے ہیں اور مختلف موسموں میں مختلف طریقے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔ اگر میں تمہیں تالاب سے اُٹھا کر گھر نہ لا تا تم یقیناً سردی سے مرجاتے ۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ تم اتنے دنوں تک یہیں رہو جب تک تم سمجھدار اور بڑے نہیں ہو جاتے ۔ میرا تم سے وعدہ ہے کہ جب تم بڑے ہو جاؤ گے تو میں خود تمہیں بڑے تالاب پر چھوڑ آؤں گا جہاں شاید تمہیں تمہارے حقیقی ماں باپ مل سکیں ۔“ نھا بطخیا زیادہ ضد نہیں کر پایا۔ وہ بوڑھے کے گھر میں رہنے لگا۔ اس کا قد پہلے سے بڑا ہو گیا تھا اور نئے پر بھی نکل رہے تھے۔

سردیوں کا موسم گزر گیا اور بہار کے رنگ فضا میں نکھرنے لگے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نھا بطنی اب بڑا ہو گیا تھا مگر اسے اس کا قطعی احساس نہ ہوا۔ اسے یہ تو معلوم ہو گیا تھا کہ اس کا رنگ پہلے سے صاف اور دودھ جیسا سفید ہو گیا ہے مگر خم کھاتی ہوئی دلکش دم اور اُٹھے ہوئے پردوں کو نہ جان پایا۔ جب گرمی کا موسم شروع ہوا تو ایک دن بوڑھا شخص اس کے پاس چلا آیا۔ اس نے اسے بتایا کہ اب وہ وقت آچکا ہے کہ اسے بڑے تالاب پر پہنچا دیا جائے جس کا اس نے وعدہ کیا تھا۔ یہ سن کر ننھا بطخا بے حد خوش ہوا۔

وہ بوڑھا شخص کی بغل میں دبکا گھر سے روانہ ہوا۔ بوڑھا شخص نے ایک بڑے تالاب پر اسے اتار کر خدا حافظ کہا۔ ننھے بطھے نے نہ دل سے اس کا شکر یہ ادا کیا۔ ننھے بطے نے خوشی میں جھومتے ہوئے تالاب کے پانی میں چھلانگ لگائی اور گہرے پانی کا غوطہ کھایا لیکن جب وہ پانی کی سطح پر آیا تو بے ہوش ہوتے ہوتے بچا۔ تالاب کے شفاف پانی میں اسکے سراپے کا عکس صاف دکھائی دے رہا تھا۔ بل کھاتی ہوئی لمبی گردن ، چکنی چونچ، پہلوؤں میں پنکھ کی مانند کھلے ہوئے پر اور دودھ جیسی سفید رنگت نے اس کو بے حد دلکش بنا دیا تھا۔ وہ جوان ہو چکا تھا۔ وہ خوشی سے جھوم اُٹھا۔ وہ ابھی اپنے دلکش سراپے سے لطف اندوز ہورہا تھا کہ کہیں سے اس جیسے تین سفید بطحے تالاب میں اتر آئے۔

 اس نے ان کی طرف دیکھا تو بہت خوش ہوا۔ وہ اسے اپنے بہن بھائی محسوس ہوئے۔ وہ تینوں سفید بطخے اس کے ساتھ کچھ ایسے گھل مل گئے کہ بیگانے پن کا احساس بھی نہ ہوا۔ اچانک ننھے بطے کے کانوں میں آواز میں پڑی۔ کچھ بچے تالاب کی طرف آنکے تھے اور ایک دوسرے کو بتارہے کہ وہ دیکھو! راج ہنس پانی میں کھیل رہے ہیں۔ سفید ننھے بطے کو پہلی بار معلوم ہوا کہ وہ ایک راج ہنس ہے۔ پہلے تو وہ خود کو محض ایک بطخی ہی سمجھتا تھا۔ جب شام کا وقت ہوا تو وہ تینوں راج ہنس ہوا میں اُڑ گئے۔ ننھا بطے نے کوشش کی اور ہوا میں بلند ہو گیا۔ اسے ہوا میں اُڑنا اچھا لگ رہا تھا۔ وہ ان تینوں کے تعاقب میں اُڑتا رہا۔ وہ ان کے ہمراہ گھونسلوں تک جا پہنچا۔ پہلے تو ان تینوں نے اسے اپنے ساتھ رکھا پھر اسے گھونسلا بنانا سکھایا اور وہ اپنے گھونسلے میں رہنے لگا۔ وہ چاروں روزانہ نکلتے اور مختلف تالابوں پر جا کر مستیاں کیا کرتے۔ نھا بھی ہمیشہ نیچے دیکھتارہتا کہ کہیں اور تھا بھی انہیں پکارتونہیں رہا!