Story Books in Urdu for child Mazak Uraya Libas Ganway

Story Books in Urdu for child Mazak Uraya Libaas Ganwaya

Mazak Uraya Libaas Ganwaya (Urdu Kids Story) PDF 2024


 ایک قصبے میں ایک بلی اپنے تین بچوں کے ساتھ رہتی تھی۔ اس بلی کا نام زینت مشہور تھا کیونکہ یہ بلی خاصی عمر رسیدہ اور سمجھدار تھی۔ وہ نہ صرف ہر وقت گھر کے کاموں میں مصروف رہتی بلکہ اس نے اپنے گھر ایسے عمدہ قرینے سے سجا رکھا تھا کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے کہ اس گھر میں بچے بھی موجود ہو سکتے ہیں کیونکہ بچے عموماً شرارتوں سے گھر کا ساری سجاوٹ اور صفائی خراب کر دیتے ہیں۔

زینت کے عمدہ ذوق اور اشیاء کو سلیقے سے سنبھالنے پر اکثر اردگرد کی ہمسائی بلیاں اس کے پاس آجاتیں اور اس سے اچھے اچھے مشورے حاصل کرتیں۔ زینت گھر کے معاملے میں صفائی پسند ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے اخلاق کی بھی مالک تھی ۔ وہ ہر آنے والے کی بات کو بڑے غور سے سنتی اور معاملے کو پوری طرح جان لینے کے بعد سوچ سمجھ کر اسے معقول مشورہ دیتی۔ زینت کو نمود و نمائش کا کوئی شوق نہیں تھا اور نہ ہی وہ یہ چاہتی تھی کہ لوگ اس کی خوشامد یا تعریف کرتے رہیں۔ زینت جنتی اچھی اور صفائی پسند تھی اس کے تینوں بچے اتنے ہی گندے اور شرارتی تھے۔

 وہ ہر وقت حماقتیں کرتے اور کوئی نہ کوئی نقصان کر کے گھر واپس لوٹتے۔ زینت بڑے آرام سے انہیں سمجھاتی اور نصیحتیں کرتی رہتی ، جن کا بچوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ وہ اپنی ماں کے نرم رویئے سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے تھے۔ تینوں بچے نہ صرف ماں کی بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے بلکہ وہ آپس میں بھی خوب لڑتے جھگڑتے رہتے تھے ۔ زینت انہیں اپنے پاس بٹھا کر نرمی سے سمجھاتی کہ اچھے بچے لڑتے جھگڑتے نہیں ہیں

 بلکہ آپس میں محبت وسلوک کے ساتھ رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کی خوب مدد کرتے ہیں اور بڑھ چڑھ کر گھر کے کام کیا کرتے ہیں۔ ساتھ مل کر کھیلتے ہیں، ساتھ مل کر پڑھتے ہیں اور ساتھ مل جل کر رہتے ہیں۔ زینت کے بچے گردنیں جھکائے اپنی ماں کی نصیحتیں سنتے رہتے اور جونہی ماں کسی دوسرے کام میں مصروف ہو جاتی تو وہ دوبارہ پرانی روش پر آجاتے۔ زینت کو ان پر بڑا غصہ بھی آتا مگر وہ یہ خیال کر کے کہ انہیں کچھ نہ کہتی کہ ابھی وہ بچے ہیں،

 جب ذرا بڑے ہو جائیں گے تو خود ہی سمجھدار ہو جائیں گے۔ ایک دفعہ کی بات ہے کہ عید کا دن قریب آیا تو زینت نے بچوں کیلئے خوبصورت کپڑے سلوائے اور نئے جوتے خریدے۔ عید کی آمد پر بچے بھی بڑے بے قرار تھے ، جب عید کا دن آیا تو زینت نے صبح سویرے سب سے پہلے پانی گرم کر کے بچوں کو رگڑ رگڑ کر خوب نہلایا تا کہ ان کے بدن کے ساتھ چپکی ہوئی تمام مٹی اچھی طرح ڈھل جائے ۔ باری باری سب بچوں کو نہلا کر زینت نے ان کا جسم تو لئے سے خشک کیا اور نئے نئے کپڑے پہنائے ۔ جسم پر پاؤڈر لگا کر زینت نے بچوں کے سر پر خوبصورت ہیٹ ڈال دیئے ۔

بچے صاف ستھرے ہو کر بڑے پیارے لگ رہے تھے ۔ زینت نے سب بچوں کو سختی سے تاکید کی کہ وہ جب باہر جائیں تو اپنے کپڑوں کا خاص خیال رکھیں ۔ مٹی میں ہرگز نہ کھیلیں اور نہ ہی ایک دوسرے کے ساتھ کھینچا تانی کریں کیونکہ اس طرح ان کے نئے کپڑے پھٹ جائیں گے۔ بچوں نے وعدہ کیا کہ وہ ماں کی تمام نصیحتیں یاد رکھیں گے اور کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے انہیں شرمندگی اٹھانا پڑے۔ تینوں بچے نئے کپڑے پہن کر گھر سے باہر نکلے اور قریبی باغ میں پہنچ گئے۔ باغ میں انہوں نے خوب اچھل کود کی ۔ وہ کبھی رنگ برنگی تتلیوں کو پکڑتے تو کبھی پھولوں کو توڑ کر ان کی پتیوں کو ہوا میں اچھالتے ۔

 وہ سارا دن اسی کھیل کود میں مصروف رہے۔ انہوں نے اپنے کپڑوں کا بہت خیال رکھا کہ کہیں وہ میلے یا خراب نہ ہو جا ئیں ۔ کھیلتے کودتے جب کافی دیر گزرگئی تو انہیں بھوک ستایا۔ تینوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ اب انہیں گھر واپس چلنا چاہئے تا کہ کھانا کھایا جائے ۔ وہ باغ کی راہداری میں اودھم مچاتے ہوئے اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے ۔ جب وہ گھر پہنچے تو انہوں نے اپنی ماں کو کھانا پکاتے دیکھا۔ زینت نے بچوں کا لباس دیکھ کر اطمینان کی سانس لی کیونکہ وہ صاف ستھرا دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے بچوں کے لباس کو صاف ستھرارکھنے پر ان کی تعریف کی اور تاکید کی کہ وہ آئندہ بھی ایسا ہی کیا کریں۔

بچے ماں کی تعریف سن کر بڑے خوش ہوئے اور انہوں وعدہ کیا کہ وہ آئندہ بھی لباس کو ایسا ہی صاف ستھرا رکھیں گے۔ انہوں نے ماں سے کھانا مانگا تو زینت نے انہیں کچھ دیر انتظار کرنے کیلئے کہا کیونکہ کھانا تیار ہونے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی۔ تینوں بچے باہر نکل آئے اور انہوں نے ماں کو بتایا کہ وہ گھر کے دروازے پر بیٹھے ہیں جب کھانا تیار ہو جائے تو وہ انہیں آواز دے کر بلا لے۔ زینت نے انہیں باہر بیٹھنے کی اجازت دے دی

 اور خود جلدی جلدی کھانا بنانے میں لگ گئی ۔ تینوں بچے گھر کے باہر دروازے کے ساتھ دیوار پر بیٹھے ہنس کھیل رہے تھے کہ اچانک ایک طرف سے تین سفید بڑے بطے آتے دکھائی دیئے ۔ وہ مزے مزے سے جھوم جھوم کر چل رہے تھے ۔ ان کے سفید پر بڑے اُجلے دکھائی دے رہے تھے۔ وہ بھی عید کی خوشی منارہے تھے اور ایک پیارا سا گیت گاتے ہوئے قطار میں چل رہے تھے۔ تینوں بچوں نے ان کی طرف دیکھا تو وہ ہنسنے لگے

 اور آپس میں ان کا مذاق اُڑانے لگے۔ بطخے ان کو ہنستا ہوا دیکھ کر رُک گئے اور دریافت کیا کہ ایسی کیا بات ہے جن پر انہیں نہیں آرہی ہے؟ بچے ہنس کر بولے کہ کیا ان کے پاس نئے کپڑے نہیں ہیں جو وہ عید والے دن بھی ایسے ہی ننگے گھوم پھر رہے ہیں؟ بطخوں کو یہ سن کر غصہ آیا کہ وہ ان کے سفید اجلے جسم کو دیکھ کر ان کا مذاق اُڑا رہے ہیں اور خوبصورت قدرتی لباس پر دنیاوی لباس کو ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے تینوں بچوں کو سبق سکھانے کی ٹھانی۔ ایک بطنا بولا۔ ہم تو پانی کے جانور ہیں ہمیں لباس سے کیا لینا دینا۔ جونبی پانی میں گئے لباس کا ستیا ناس ہو جاتا ہے۔ بچے یہ سن کر اور ہننے لگے۔

 دوسرا بطنی بولا کہ ان کے پاس تو بڑے اچھے کپڑے ہیں۔ کیا وہ انہیں کچھ دیر کیلئے دکھا سکتے ہیں؟ بچے یہ سن کر حیران رہ گئے اور پوچھنے لگے کہ وہ ان کے کپڑوں کا کیا کریں گے؟ بطنا بولا کہ وہ ان کا لباس پہن کر دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ کیسا لگتا ہے؟ ایک بچے نے اپنا ہیٹ اتار کر بطلح کی طرف پھینک دیا، بطخ نے ہیٹ اپنے سر پر رکھ کر انگڑائی لی تو تینوں بچے اس کے انداز پر بے ساختہ ہنس پڑے۔ دوسرے بچے نے اپنی قمیص اتار کر بطے کی طرف بڑھا دی۔

بطے نے قمیص پہن لی جو اسے بڑی کھلی تھی۔ وہ قمیص پہن کر بڑا مزاحیہ لگ رہا تھا۔ بچے اس کا مضحکہ خیز حلیہ دیکھ کر قہقہے لگانے لگے۔ اس طرح بچوں نے ایک ایک کر کے تمام کپڑے بطخوں کے حوالے کر دیئے ۔ بطخوں نے بچوں کے کپڑے پہن کر زمین پر لوٹیاں لگائی، قلابازیاں کھائیں اور کئی طرح کے کرتب کر کے دکھائے۔ ان کے تماشے دیکھ دیکھ کر بچوں کا برا حال ہو رہا تھا۔ جنسی تھی کہ بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

 بطخوں نے بلی کے بچوں کے کپڑوں کی ایسی درگت بنا ڈالی کہ وہ دیکھنے کے قابل تک نہ رہے تھے جبکہ بچے ان کی حرکت سے بے خبر ان کی مستیوں میں ایسے گم تھے کہ انہیں ذرا بھر احساس نہ ہوا کہ بطخوں نے ان کے نئے اور پیارے کپڑوں کا ستیا ناس کر ڈالا ہے۔ بطخوں نے کپڑے زمین پر پھینکے اور قطار میں چلتے ہوئے اپنی راہ لی۔ بچے ان کو مٹک مٹک کر جاتے ہوئے دیکھ کر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ کچھ دیر بعد بطخے ان کی نظروں کے سامنے سے اوجھل ہو گئے۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ زینت نے گھر سے باہر نکل کر بچوں کو آواز دی کہ کھانا تیار ہو چکا ہے۔ زینت کی نظر جب بچوں پر پڑی

 تو ان کے کپڑے نہ دیکھ کر وہ بڑی حیران اور پریشان ہوئی اور ان سے کپڑوں کے بارے میں دریافت کیا۔ بچوں کو جب کپڑوں کا خیال آیا تو انہوں نے زمین پر نظر ڈالی۔ ان کے کپڑے مٹی میں آٹے پڑے تھے۔ وہ حیرت و خوف سے کبھی اپنے کپڑوں کو اور کبھی بطخوں کے گم ہونے والے راستے کو دیکھتے۔ انہیں سمجھ آچکی تھی کہ بطخوں نے ان کے ساتھ کیا کھیل کھیلا تھا مگر وہ اب کیا کر سکتے تھے؟ وقت ان کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔

 زینت نے جب یہ Urdu Kahani For Children Meena & Christmas wishenow سب دیکھا تو اس نے غصے سے چھڑی اُٹھالی اور بچوں کی ایسی خبر لی کہ انہیں بھولی ہوئی نانی یاد آ گئی۔ پیارے بچوں کیلئے پیاری پیاری اور سبق آموز رنگین کہانیوں کی خوبصورت کتابیں


Stories For Kids | Nanha Batkha | ننھا بطخا | Moral Stories

The Enigmatic Prophet Dhul Kifl: A Mystical Journey Through History