Urdu Kahani for children naik dil blongdi pdf free download

Urdu Kahani for children naik dil blongdi pdf free download

Urdu Kahani For Children Naik Dil Blonde Story Pdf
 خصی منی اور پیاری بلی تھی۔ وہ بڑی نیک دل اور دوست نواز تھی۔ اس سے دل میں دوسروں کی خدمت کیلئے بڑے گہرے جذبات بھرے تھے۔ وہ ہر وقت یہی سوچتی رہتی کہ ہر کوئی اس سے خوش رہے، ہر فرد کو اس کی ذات سے فائدہ ملتا ہے، اس کا ہر کام کسی نہ کسی کی مدد کا باعث بن جائے۔

 وہ جب بھی گھر سے باہر نکلتی تو ہمیشہ اسی کوشش میں رہتی کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے کام آسکے۔ دوسرے لفظوں میں وہ ہمیشہ دوسروں کے کام آنا عبادت سمجھتی تھی۔ کبھی وہ کسی کی معاونت کرتی تو کبھی روتے ہوؤں کو ہنسا دیا کرتی ۔ اس کے پاس جو بھی چیز ہوتی ، وہ اسے دوسروں میں بانٹنے میں کبھی تاخیر نہیں کرتی تھی۔ اس کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی کہ اس کا خالق اللہ اس سے بالکل اسی طرح سلوک کرے جیسا کہ وہ دوسروں سے کرتی تھی، اللہ اس سے راضی رہے

اور اسے اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق کی خدمت کے قابل بنائے رکھے ۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ہر دلعزیز تھی۔ ہر کوئی اس سے محبت کرتا اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی خوب تعریفیں کیا کرتا۔ ایک دن کی بات ہے کہ اس کی ماں نے اسے بازار سے کرو لینے کیلئے بازار بھیجا۔ کدو اس کے گھر سے دورمنڈی میں بکتے تھے۔ بلونگڑی مسکراتی ہوئی گھر سے نکلی اور اپنے تھیلے کو ہوا میں لہراتی ہوئی منڈی کی طرف چل دی۔ وہ ابھی اپنے گھر کے صحن کے باغیچے میں ہی پہنچی تھی

کہ اسے چنبیلی کے پھولوں کی خوبصورت بیل دکھائی دی۔ سفید چمکتے ہوئے پھول بڑے دلکش اور بھلے دکھائی دے رہے تھے ۔ ان کی بھینی بھینی خوشبو ہر طرف مہک رہی تھی۔ بلونگڑی کو اچانک خیال آیا کہ کیوں نہ ان پھولوں کا ایک ہار بنا لیا جائے۔ وہ لپک کر ڈالی پر چڑھ گئی اور پھول چنے لگی۔ چند ہی لمحوں میں اس نے پھولوں کا ایک خوبصورت ہار تیار کر لیا۔ اس نے پھولوں کا ہار اپنے تھیلے میں ڈالا اور گھر سے باہر نکل کر دریا کی پگڈنڈی کی طرف بڑھ گئی۔ وہ اپنے خیالوں میں گم دریا کے کنارے پر چل رہی تھی کہ اچانک پانی میں ہلچل سی ہونے لگی۔ بلونگڑی چونک کر پانی کی طرف دیکھنے لگی۔ ایک لمحے بعد پانی میں سے ایک بڑا سا سر نمودار ہوا۔ وہ دیکھنے میں بڑا خطرناک اور ڈراؤنا لگتا تھا مگر بلونگڑی کو اس سے ذرا بھی ڈر نہیں لگا۔ وہ دریائی گھوڑا تھا جس کا نام ہپوتھا اور اس نے زرد رنگ کا بڑا سا ہیٹ پہن رکھا تھا۔ ہیو اپنا بڑا سا منہ کھول کر ہنسا اور بلونگڑی سے مخاطب ہوا۔

”میری چھوٹی گڑیا جلدی جلدی کہاں جا رہی ہے؟“ بلونگڑی ہو کو پہچان چکی تھی۔ اس نے بڑے اخلاق سے بتایا کہ وہ اپنی ماں کیلئے کرو لینے منڈی جارہی ہے۔ ہپوکی نظر اچانک تھیلے پر پڑی جس میں سے چنبیلی کے پھول باہر نکلے دکھائی دے رہے تھے۔ ہونے پھولوں کے بارے میں پوچھا تو بلونگڑی نے بتایا کہ یہ پھول چنبیلی کے ہیں اور اس نے اپنے لئے ان کا ہار بنایا ہے ۔ ہیپونے بلونگڑی کو کہا کہ اس کے بدن میں خارش چھڑ گئی ہے اور حکیم نے بتایا ہے کہ اگر وہ چنبیلی کے پھولوں کا ہار بدن پر پہنے گا تو اسے خارش سے نجات مل سکتی ہے۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ہونے بلونگڑی سے ہار کیلئے درخواست کی تو بلونگڑی نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر ہار تھیلے میں نکالا اور ہیپو کے ہاتھوں میں دے دیا۔

 ہیو ہار پا کر بڑا خوش ہوا اور اس نے بلونگڑی کا شکر یہ ادا کیا۔ بلونگڑی نے کہا کہ وہ شام کو ایک اور تازہ ہار بنا کر لائے گی تا کہ ہیو کی خارش بالکل ٹھیک ہو جائے۔ بلونگڑی کی بات سن ہیو بڑا متاثر ہوا اور اس نے کہا کہ وہ بلونگڑی کو اس کے بدلے میں کچھ دینا چاہتا ہے۔ بلونگڑی نے بہتیرا منع کیا مگر ہونے جب یہ کہا کہ اس کا دل ٹوٹ جائے گا تو بلونگڑی کو انکار کرنا بالکل اچھا نہیں لگا۔ ہونے پانی میں غوطہ لگا یا اور کچھ دیر بعد دوبارہ پانی ہر نمودار ہو گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک سبز رنگ کی پوٹلی دبی ہوئی تھی جس میں نجانے کیا تھا؟ ہپونے پوٹلی بلونگڑی کے حوالے کی اور کہا کہ اسے گھر جا کر ہی کھولے، زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ وہ کھولنے کے بجائے ماں کو دے دے۔ بلونگڑی نے وعدہ کیا کہ وہ ایسا ہی کرے گی۔

 ہیپو پانی میں دوبارہ گم ہو گیا تو بلونگڑی نے پوٹلی بغل میں دبائی اور آگے بڑھ گئی۔ وہ دریا کا پل پار کر کے گھنے جنگل میں پہنچ گئی تھی جہاں رنگ برنگے پرندے اور جانور موجود تھے۔ انہوں نے جب بلونگڑی کو دیکھا تو اس کے ساتھ کھیلنے کیلئے مچلنے لگے۔ بلونگڑی کو کد وخرید نا تھے مگر وہ ان سب کا دل بھی نہیں تو ڑنا چاہتی تھی۔ اس نے انہیں کہا کہ وہ اس کے ساتھ کھیلتے ہوئے منڈی کی طرف چلیں تا کہ دونوں کام ایک ساتھ ہو جائیں۔ وہ ابھی چند قدم دور پہنچی تھی کہ اسے زمین پر کچھ گرا ہوا دکھائی دیا۔ بلونگڑی نے آگے بڑھ کر وہ چیز اُٹھالی۔ وہ ایک چھوٹی سی بانسری تھی ۔ بانسری پا کر بلونگڑی بڑی خوش ہوئی۔ اس نے بانسری پر ایک سریلی دھن چھیڑی تو سب دوست خوشی سے جھومنے ناچنے لگے۔

بلونگڑی بانسری بجاتی ہوئی منڈی کی طرف چلنے لگی۔ اچانک اسے یوں لگا جیسے بانسری کے سر خراب ہو رہے ہیں ، بانسری میں سے رونے کی سی آواز نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ بلونگڑی نے بانسری بجانا بند کر دیا مگر رونے کی آواز اب بھی آ رہی تھی۔ بلونگڑی نے سب دوستوں سے کہا کہ وہ رونے والے کو تلاش کریں۔ چند منٹوں بعد ایک بندر نے بتایا کہ ایک چھوٹا بچہ اس طرف بیٹھا رو رہا ہے۔ بلونگڑی بے چین ہو کر جلدی جلدی وہاں پہنچی ۔ اس نے دیکھا کہ ایک چھوٹا بچہ نیلا پاجامہ پہنے زار و قطار رو رہا تھا۔ بلونگڑی جلدی سے اس کے پاس آئی اور رونے کی وجہ دریافت کی۔ بچے نے سکیاں بھرتے ہوئے بتایا کہ اس کی بانسری جنگل میں کہیں کھو گئی ہے جو بالکل ویسی ہی تھی جیسی بلونگڑی کے پاس ہے۔ بلونگڑی نے مسکرا کر کہا کہ یہ بانسری اسی کی ہے کیونکہ یہ اسے جنگل میں گری ہوئی ملی تھی۔ بچہ یہ سن کر خاموش ہو گیا اور اس نے حیرت سے بلونگڑی کی طرف دیکھا۔ بلونگڑی نے دوبارہ اسے بتایا اور بانسری اس کی طرف بڑھا دی۔ بچہ ابھی تک حیران بیٹھا تھا۔ اس نے معصومیت سے کہا کہ اس کے دوستوں کو اس کی کوئی کھوئی ہوئی چیز مل جاتی ہے تو وہ اس پر قبضہ جمالیتے ہیں

 اور ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ یہ تو اُن کی ہے۔ بلونگڑی یہ سن کر مسکرائی اور کہا کہ سے بچے گندے ہوتے ہیں جو دوسروں کی گمشدہ چیزوں کو پا کر اپنی ملکیت کا دعوی کرتے ہیں۔ یہ بڑی بری عادت ہے، اگر زمین پر پڑی ہوئی کوئی چیز مل جائے تو اسے اٹھا لینا چاہئے مگر جونہی اس چیز کا مالک سامنے آجائے اور یہ کہے کہ یہ تو اس کی ہے جو گم ہوگئی تھی تو بلا جھجک وہ چیز لوٹا دینا چاہئے۔ جھوٹ بول کر اسے ہتھیانے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے ۔ وہ بچہ بڑا خوش ہوا۔ اس نے بلونگڑی کو کہا کہ وہ جنگل کے دوسری طرف رہتا ہے اگر وہ پسند کرے تو وہ روزانہ اس کے ساتھ کھیلنے کیلئے آجایا کرے کیونکہ اسے بلونگڑی بڑی اچھی اور ملنسار دوست لگی ہے۔ بلونگڑی نے بلاتر دود اس کے ساتھ دوستی کر لی اور وعدہ کیا کہ وہ اس کے ساتھ کھیلنے کیلئے جنگل میں ضرور آیا کرے گی۔ اچانک بلونگڑی کو خیال آیا کہ اسے تو کدو خریدنا ہیں اس لئے اس نے بچے کو خدا حافظ کہا اور منڈی کی طرف روانہ ہوگئی۔

 اس کے دوست، بچے کے ساتھ کھیلنے میں مشغول ہو گئے جس کے باعث بلونگڑی کو تنہا ہی آگے جانا پڑا۔ وہ جلدی جلدی جنگل عبور کر کے منڈی پہنچنے کیلئے بے تاب تھی کہ اچانک ایک شرارتی بندرراہ میں حائل ہو گیا۔ شرارتی بندر نے بلونگڑی کی بے خبری کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے جھپٹا مارا اور اس کی بغل میں دبی ہوئی پوٹلی کو لے کر ایک اونچے درخت پر چڑھ گیا۔ بلونگڑی اس غیر متوقع حرکت کیلئے بالکل تیار نہیں تھی ، وہ بوکھلاسی گئی ۔ بندر درخت کی اونچی شاخ پر بیٹھا اسے منہ چڑھا رہا تھا۔ بلونگڑی نے اس سے کہا کہ وہ اس کی پوٹلی واپس کر دے تا کہ وہ منڈی جا سکے مگر بندر اس کیلئے رضامند نہیں ہوا۔ بلونگڑی نے کوشش کی کہ وہ درخت پر چڑھ کر اس سے اپنی پوٹلی چھین لے مگر بندر زیادہ پھر تیلا اور چالاک نکلا ۔ 

وہ ایسی نازک شاخوں پر جا بیٹھا جن پر جانا بلونگڑی کیلئے ممکن نہیں تھا۔ بلونگڑی نے پیار سے اسے سمجھایا کہ یہ پوٹلی اس کی ماں کیلئے ہے، وہ اسے تنگ مت کرے مگر بندر بضد تھا کہ پوٹلی میں ضرور کھانے کی کوئی چیز ہے، اگر بلونگڑی اس کے ساتھ وعدہ کرے کہ وہ اس میں آدھی چیز اسے کھانے کیلئے دے گی تو وہ پوٹلی واپس کر دے گا۔ بلونگڑی نے کہا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتی کیونکہ اس نے ہیپو کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اسے گھر سے پہلے نہیں کھولے گی ۔ بندر کسی قیمت پر پوٹلی واپس کرنے کو تیار نہیں تھا۔ بلونگڑی نے کچھ دیر سوچا تو ایک ترکیب اس کے دماغ میں آئی۔ اس نے زمین پر پڑے کچھ پتھر اُٹھائے اور بندر کو مارنے لگی۔ پہلے پہل تو بندر بچتا رہا مگر پھر وہ شروع ہو گیا۔ اس نے درخت کی شاخوں پر لگے ہوئے پھل توڑے اور بلونگڑی کی طرف پھینکنا شروع کر دیئے۔ یہ سلسلہ کچھ دیر تک جاری رہا۔ بندر کو اس کھیل میں مزہ آنے لگا۔ وہ بھول گیا کہ اس کے ہاتھ میں پوٹلی بھی دبی ہوئی ہے،

 اس نے بے خیالی میں پھول کے ساتھ ساتھ پوٹلی بھی بلونگڑی کی طرف اچھال دی۔ پوٹلی ملتے ہی بلونگڑی نے اسے اپنے تھیلے میں چھپالیا اور بندر کو منہ چڑھا کر وہاں سے روانہ ہوگئی۔ بندر کو اپنی حرکت جب سمجھ آئی تو وہ بڑا پشیمان ہوا مگر اب کیا ہوسکتا تھا؟ موقعہ ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ بلونگڑی نے وہاں سے دوڑ لگا دی ، جب منڈی میں پہنچی تو اس کی سانس میں سانس آیا۔ شرارتی بندر سے بچنا اسے ہمیشہ ہی مشکل کام لگتا تھا۔ اس نے جلدی جلدی کدو خریدے اور تھیلا بھر لیا۔ تھیلے کے منہ پر اس نے کس کر گرہ لگائی اور گھر کی طرف واپس چل دی۔ راستے میں بندر سے دوبارہ ملاقات ہوئی اس نے جھپٹا مار کر تھیلا چھینا چاہا مگر اس بار وہ ناکام رہا کیونکہ تھیلا اس کے لحاظ سے بہت زیادہ وزنی تھا۔

 وہ ناکام ہو کر واپس درخت پر چڑھ گیا اور کھیسانی ہنسی ہنسنے لگا۔ بلونگڑی جب گھر واپس پہنچی تو اس نے اپنی ماں کو پوٹلی کے بارے میں بتایا۔ اس کی ماں نے تھیلے میں سے پوٹلی نکالی اور اسے کھول کر دیکھا۔ پوٹلی میں سفید سفید موتی بھرے ہوئے دکھائی دیئے۔ بلونگڑی نے جب دریافت کیا تو ماں نے اسے بتایا کہ ہونے اسے قیمتی بچے موتیوں کا تحفہ دیا تھا جس سے وہ اپنے لئے ایک خوبصورت ہار بنا سکتی ہے۔ چپکتے ہوئے موتیوں کو دیکھ کر بلونگڑی کا دل باغ باغ ہو گیا۔ اس کی ماں نے اسے بتایا کہ اچھے کام کرنے سے ہمیشہ اچھا نتیجہ ہی نکلتا ہے۔ دیکھا بچو! بلونگڑی کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے اسے کتنا فائدہ ہوا۔ آپ بھی ایسے فائدے حاصل کر سکتے ہیں مگر اس کیلئے اچھا بننا ضروری ہے۔