Urdu Kahani For Children Zid Ki Saza Pdf Free Download Wishenow

Urdu Kahani For Children Zid Ki Saza Pdf Free Download

Zid Ki Saza : Free Download, Borrow, and Streaming

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ننھا منا سا بھالو اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کا نام چنکی تھا۔ چنکی بڑا شرارتی اور نٹ کھٹ بچہ تھا۔ وہ ہر وقت شرارتیں کیا کرتا اور اپنے ماں باپ کو خوب ستا تا۔ اس کا باپ اسے اکثر سمجھاتا کہ 

میرے پیارے بیٹے ! ہر وقت شرارتیں کرنا اچھی بات نہیں مگر چنکی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ کبھی کبھار تو اس کا باپ غصے میں آجاتا اور اسے خوب ڈانٹتا۔ اس وقت چنکی دبک کر چھپ جاتا اور کچھ دیر کیلئے شرارتیں بند کر دیتا مگر جونہی اس کے باپ کی توجہ کسی اور طرف ہوتی تو وہ پھر سے شرارتوں میں لگ جاتا۔ وہ یہ بات جانتا تھا کہ شرارتیں کرنا اچھی بات نہیں ہے اور ماں باپ کو ستانا بھی نہیں چاہئے مگر جب اسے کوئی چیز دکھائی دیتی تو وہ یہ سب بھول جاتا اور موقع کا بھر پور فائدہ اُٹھاتا۔ چونکہ چنکی اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا اس لئے وہ لاڈلا بھی تھا۔ اس کے ماں باپ بڑی محبت سے پیش آتے اور اس کی شرارتوں کو اکثر نظر انداز کر دیا کرتے ۔ اس کا باپ جب دفتر چلا جاتا تو وہ گھر میں اکیلا رہ جاتا۔ اسے ابھی سکول میں داخل نہیں کرایا گیا تھا۔ وہ اپنے کھلونوں سے خوب کھیلتا۔ شرارتی ہونے کے باوجود اس کے سارے کھلونے بالکل صحیح سلامت تھے۔ ایک کھلونا بھی ٹوٹا ہوا نہیں تھا۔ جب اس کی ماں کو سودا سلف لینے کیلئے گھر سے باہر جانا پڑتا تو وہ اسے اپنے ساتھ لے جاتی۔ اس کی ماں خریداری کرتی اور وہ رنگ برنگی چیزوں کو دیکھ کر خوش ہوتا۔ اکثر وہ اپنی ماں سے سودا سلف کا تھیلا لے لیتا کہ وہ اُٹھانے میں اس کی 

مدد کرے گا مگر سامان بھاری ہوتا تھا کچھ ہی پل بعد وہ سامان کا تھیلا ماں کی طرف بڑھا دیتا۔ اُس دن تو اس کی خوب موج ہوتی جب اس کی ماں خریداری کیلئے بڑے سٹور میں جاتی ۔ وہاں سامان باہر لانے کیلئے ٹرالیاں ملتی تھیں۔ اس کی ماں اپنے سامان کیلئے ایک ٹرالی کھینچ لیتی تو وہ اسے خوب دھکیلتا اور خوش ہوتا۔ اس کی ماں ضرورت کی چیزیں خانوں سے نکال کر ٹرالی میں جمع کرتی رہتی اور وہ ٹرالی کے چاروں طرف مچلتارہتا۔ وہ کبھی ٹرالی کے اوپر چڑھنے کی کوشش کرتا تو کبھی اس کے دستے پر لٹک کر جھولے لیتا۔ 

ایک دن کی بات ہے کہ وہ اپنی ماں کے ساتھ بڑے سٹور میں پہنچا۔ اس کی ماں نے سب سے پہلے آلو کا پیکٹ ٹرالی میں ڈالا اور پھر چند ڈبے اُٹھا کر ٹرالی میں ڈال دیئے ۔ چنکی ان ڈبوں کی طرف غور سے دیکھنے لگا کیونکہ وہ بڑے خوبصورت اور رنگ برنگے تھے۔ ان میں کیا تھا؟ یہ تو اسے معلوم نہیں تھا۔ کچھ دیر بعد اس کی ماں نے ایک چھوٹا سا خوبصورت مرتبان ٹرالی میں ڈالا۔ اس میں سنہرے رنگ کی کوئی چیز چمک رہی تھی۔ چنکی کو وہ مرتبان بڑا بھلا لگا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے اُٹھانا چاہا مگر ماں نے منع کر دیا۔ اس کی ماں نے اس کیلئے مکئی کے دانے لئے ، جنہیں جب بھونا جاتا ہے تو وہ پھول کر بڑے بڑے ہو جاتے تھے ۔ اس کی ماں نے دوسری چیز میں بھی خریدیں مگر 

چنکی کا دل تو اس مرتبان سے چمٹ کر رہ گیا تھا۔ اس میں جو بھی چیز تھی وہ بڑی دلکش اور عمدہ لگتی تھی۔ چکی نے اپنی ماں سے اس کا نام پوچھا تو اس نے لا پروائی سے ایک نام بتایا۔ چنکی وہ نام سن نہیں پایا تھا، 

اسے سمجھ نہیں آیا کہ اس کی ماں نے اسے چند لمحے پہلے کیا بتایا تھا؟ اس نے دوبارہ نام پوچھنے کی کوشش کی مگر اس کی ماں خریداری میں مصروف تھی اس لئے اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ سٹور سے باہر نکلا۔ اس کی ماں نے ٹرالی میں سامان نکالا اور اپنی گاڑی میں رکھا۔ چنکی اپنی ماں کے ساتھ گھر واپس آ گیا۔ دو پہر ڈھل رہی تھی۔ اس کی ماں نے جلدی جلدی ایپرن پہنا اور کھانا پکانے میں مصروف ہوگئی۔ تھوڑی دیر بعد اس کا باپ بھی دفتر سے واپس آ گیا۔ اس کی ماں نے رنگ برنگے ڈبوں میں اُبلے ہوئے مٹر نکالے اور انہیں گھی میں ڈال کر بھون دیا۔ مٹر بھن کر گر گرے ہو گئے ۔ گھر میں بڑی مزیدار مہک پھیلی ہوئی تھی ۔ مہک سونگھ کر چکی 

کے پیٹ میں چوہے ناچنے لگے۔ اس کا بڑا دل چاہا کہ وہ جلدی جلدی کھانا کھا لے مگر اس کی ماں ابھی پکارہی تھی ۔ اس نے اپنے باپ کے ساتھ ہاتھ دھوئے اور اپنی کرسی پر جم کر بیٹھ گیا۔ جونہی اس کی ماں نے مٹر کی پلیٹ اس کی طرف بڑھائی تو اسے یاد آ گیا کہ مرتبان میں موجود چیز کا ذائقہ اس مہک سے اچھا ہو سکتا ہے۔ اس نے منہ بسور لیا اور مٹر کھانے سے انکار کر دیا۔ چنکی کے باپ کو بڑی حیرت ہوئی کہ چنکی کھانا کیوں نہیں کھا رہا ہے؟ اس نے اس کے پاس آکر پیار سے پچکارا اور ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دیکھا کہ کہیں اسے بخار تو نہیں ہو گیا۔ چنکی تو مرتبان کی چیز کھانے کا ارادہ کئے ہوئے تھا۔ باپ نے پیار سے پوچھا تو اس نے اوں اوں کر کے منہ پھیر لیا۔ اس کی ماں بھی چولہے سے ہٹ کر اس کے قریب آگئی اور پیار سے پکارنے لگی۔ وہ دونوں کوشش کر رہے تھے کہ چنکی ضد چھوڑ کر مٹر کھالے تا کہ اس کا پیٹ بھر جائے۔ مگر چنکی کے دماغ پر مرتبان کی دھن سوار تھی۔ وہ چونکہ اس چیز کا نام نہیں جانتا تھا اس لئے صاف کہہ بھی 

نہیں سکتا تھا کہ اسے وہ چاہئے ، اس نے سوچا کہ اگر وہ یونہی ضد کرتا رہے گا تو شاید اس کے ماں باپ مرتبان کی سنہری چیز اس کے حوالے کر دیں۔ جب کئی منٹ گزر گئے اور چنکی نے ضد نہیں چھوڑی تو اس کے باپ نے فریج میں سے تازہ سرخ ٹماٹر نکالا اور اس کی قاشیں بنا کر اسے کھانے کیلئے دیں، ٹماٹر بڑے مزیدار ہوتے تھے، یہ بات چنکی جانتا تھا۔ اس کا بڑا دل چاہا کہ وہ ٹماٹر لے لے مگر مرتبان کا خیال آتے ہی اس نے دوبارہ اوں اوں کرنا شروع 

کر دی۔ اس کے باپ نے بڑی کوشش کی کہ چنکی ٹماٹر کھا لے مگر چنکی تو ٹس سے مس ہونے کو تیار نہ تھا۔ اس کی ماں نے فریج میں سے دلیہ نکالا اور چیچے سے اسے کھلانے کی کوشش کرنے لگی۔ دلیہ بڑا میٹھا اور مزیدار تھا، چنکی کو انکار کرنا مشکل معلوم ہورہا تھا مگر مرتبان کی کشش ہی اتنی زیادہ تھی کہ اس نے دلیہ کھانے سے بھی انکار کر دیا۔ اس کے ماں باپ تو یہ سمجھے کہ چنکی کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ اس کے باپ نے فریج میں سے ایک بڑا سا سیب کھانے کیلئے اس کی طرف بڑھایا۔ سیب کو دیکھ کر چنکی کے منہ میں پانی بھر آیا مگر اس نے مرتبان کی طرف دیکھا جو سامنے میز پر رکھا ہوا تھا اور اس میں سنہری چیز چمکتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی ۔ اس نے سر ہلا کر سیب کھانے سے 

انکار کر دیا۔ 

پھر اس کے باپ نے فریج میں مکھن لگا پنیر نکالا اور اس کی ماں کے ہاتھ میں دیا تا کہ وہ اسے پیار سے کھلائے۔ مکھن لگا پنیر دیکھ کر چنکی کو سانس لینا مشکل محسوس ہوا ۔ روز روز مکھن لگا پنیر کھانے کو نہیں ملتا تھا۔ یہ بڑا عمدہ موقع تھا مگر اس کی نگاہ ایک بار پھر مرتبان پر پڑی تو اس نے لکھن لگا پنیر کھانے سے بھی انکار کر دیا۔ اس کے ماں باپ پریشان ہوئے۔ انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ چنکی کو بیٹھے بٹھائے کیا ہو گیا ہے؟ اتنی ساری چیزیں دیکھ کر بھی اس کی بھوک چمک نہیں پائی۔ چنکی نے جب دیکھا کہ کوئی مرتبان کی طرف توجہ نہیں دے رہا تو اس نے رونا شروع کر دیا۔ اس کے ماں باپ اور زیادہ پریشان ہو گئے ۔ اس کی ماں نے اس کے پیٹ کو دبا کر دیکھا کہ کہیں پیٹ میں درد تو نہیں اُٹھ رہا مگر چنکی کی نگاہیں مرتبان پر چپکی ہوئی تھیں۔ اچانک اس کے باپ کو پتہ چل گیا۔ اس نے مڑ کر میز کی طرف دیکھا تو وہاں پڑا ہوا چھوٹا سا مرتبان اس کی نگاہوں میں آگیا۔ وہ فوراً سمجھ گیا کہ اصل معاملہ کیا ہے؟ اس نے آہستگی ۔ مرتبان اُٹھایا اور اس کا ڈھکن کھول کر چنکی کے آگے رکھ دیا۔ چنکی یکدم رونا بھول گیا اور جلدی سے مرتبان کو پکڑ لیا۔ یہ دیکھ کر اس کا باپ ہنس پڑا۔ اس کی ماں بھی سمجھ گئی کہ چنکی کوئی تکلیف نہیں ہورہی تھی وہ تو بس یہی چاہتا تھا۔ اس کے باپ نے بتایا کہ اس مرتبان میں شہد ہے مگر شہر زیادہ مقدار میں نہیں کھاتے۔ سلائس پر تھوڑا سا لگا 

کر کھالو۔ چنکی نے جلدی سے مرتبان کو اپنے بازوؤں میں چھپا لیا۔ اتنی دیر کے بعد تو اسے شہد کا مرتبان ملا تھا مگر اس میں سے تھوڑا سا کھانا بڑا مشکل تھا۔ شہد کی بھینی بھینی سی خوشبو بڑی مسحور کن تھی ۔ چنکی نے تھوڑا سا شہد چکھ کر دیکھا۔ شہد بڑا مزیدار اور خوش ذائقہ تھا۔ 

https://www.best-wishe.co/

پھر کیا تھا چنکی تو سارے کا سارا شہد کھانے کی 

ضد کرنے لگا۔ ماں باپ نے کافی سمجھایا کہ شہد زیادہ کھانے سے دست لگ جاتے ہیں مگر چنکی تو 

بڑا ضدی ثابت ہوا۔ 

More Best Stories Visits Here

ماں باپ نے تھک ہار کر چچہ اس کے ہاتھ میں دئے۔ 

دیا کہ جتنا دل چاہے کھا لو۔ چکی تو ایسا شروع ہوا کہ آدھے سے زیادہ شہد کھا گیا۔شہد بڑا مزیدار تھا ۔ ٹماٹر سے زیادہ ، سیب سے زیادہ کھن لگے پنیر سے زیادہ ۔ جب اس کا دل بھر گیا تو اس نے شہد کا مرتبان واپس لوٹا دیا۔ باقی 

، 

دن اس نے خوب مستی میں بسر کیا۔ 

جب شام ہوئی تو اس کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے اور شدید درد ہونے لگا۔ وہ جلدی سے بیت الخلاء کی طرف بھاگا۔ وہی ہوا جس کی طرف اس کے باپ نے اشارہ کیا تھا۔ چنکی کو دست لگ گئے تھے۔ 

وہ بار بار بیت الخلاء جاتا اور روتا ہوا واپس آتا۔ اس کی ماں کو جب یہ 

پتہ چلا تو اس نے چنکی کو باپ کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا۔ 

ڈاکٹر نے چنکی کو ایک ٹیکہ لگایا اور کھانے کیلئے بڑی کڑوی دوا دی۔ جب گھر لوٹ کو چکی نے وہ دوا کھائی تو اس کا منہ کڑوا ہو گیا۔ وہ کافی دیر تک فی فی کرتا رہا۔ رات کو بھی اسے دو بار بیت الخلاء جانا پڑا۔ جب اگلی صبح ہوئی تو 

دستوں میں افاقہ ہو گیا مگر اسے دوا پھر کھانا پڑی جو بڑی کڑوی اور بدذائقہ تھی ۔ شہد کا میٹھا ذائقہ اور پھر کڑوی دوا کا ذائقہ۔ وہ رونے لگا۔ اس کی ماں نے شہد کا مرتبان اس کی طرف بڑھایا کہ وہ مزید شہد کھا لے مگر چنکی کو تو نصیحت مل چکی تھی کہ جو چیز زیادہ مزیدار ہوتی ہے، وہ زیادہ کھانا مصیبت کی جڑ ہے۔ اس نے شہد کھانے سے انکار کر 

دیا۔ اس کی ماں نے ایک 

سلائس پر شہد لگا کر دیا اور بتایا 

کہ ایسے شہد کھانے سے کچھ نہیں ہوتا تو چنکی نے ڈرتے ڈرتے 

سلائس لیا اور کھانے لگا۔ اس کے باپ نے سمجھایا کہ زیادہ شہد کھانے سے یہی کچھ ہوتا ہے۔ اگر وہ اپنے ماں باپ کی بات مان لیتا اور زیادہ شہد نہ کھاتا تو اسے نہ تو کڑوی دوا کھانا پڑتی اور نہ ہی ٹیکہ لگوانا پڑتا اور نہ ہی اس کے پیٹ میں تیز درد ہوتا۔ دیکھا بچو! جب ماں باپ کسی چیز کو کھانے سے منع کریں تو رک جانا چاہئے ، نہ ماننے اور ضد کر کے 

چیز حاصل کرنے کی صورت میں ہمیشہ برا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے۔ 

Download Pdf Story