Dosron k kaam ana ibadat hai- دوسروں کے کام آنا عبادت ہے

.Dosron K Kaam Ana ibadat Hai - دوسروں کے کام آنا عبادت ہے

Dosron k kaam ana ibadat hai- دوسروں کے کام آنا عبادت ہے

دوسروں کے کام آنا عبادت ہے

دوسروں کے کام آنا عبادت ایک بڑے کھیت کے کنارے بہت سارے خرگوش رہا کرتے تھے۔ وہ کھیت میں اُگنے والی اجناس سے خوراک حاصل کرتے ۔ کھیت کا مالک بڑا رحم دل اور خدا ترس شخص تھا۔ وہ خرگوشوں کو اللہ کی مخلوق سمجھ کر انہیں کچھ نہیں کہتا تھا۔

اس کا ایمان تھا کہ اللہ کی مخلوق اپنے حصے کا رزق اس کے کھیت میں حاصل کرتی ہے اور اس کے حصے کا رزق اللہ برکت ڈال کر اسے عطا کرتا ہے۔ مالک کی اس عادت کی وجہ سے کھیتوں میں ہمیشہ سرسبزی رہتی اور اجناس کی پیداوار میں کوئی کمی نہ ہوتی ۔ یہی وجہ تھی کہ وہاں خرگوشوں کی تعداد کافی بڑھ گئی اور وہ پوری آزادی کے ساتھ کھیتوں میں گھومتے پھرتے ۔ ان خرگوشوں میں ایک جوڑا ایسا بھی رہتا تھا جس کے چھ خوبصورت ننھے منے بچے تھے ۔

 یہ بچے بڑے لا پرواہ اور شرارتی واقع ہوئے تھے ۔ یہ پھدکتے پھدکتے اکثر کھیت کے کنارے پر پہنچ جاتے ۔ ان کے ماں باپ نے انہیں کئی بار سمجھایا کہ ہوشیار رہنا چاہئے کیونکہ ان کی لا پروائی سے فائدہ اُٹھا کر کوئی شخص انہیں پکڑ سکتا ہے۔ ان بچوں نے کبھی بھی اپنے ماں باپ کی نصیحت پر عمل نہیں کیا اور ہمیشہ لا پروائی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ خرگوش ماں باپ نے تنگ آکر انہیں سمجھانا چھوڑ دیا۔ وہ زیادہ سے زیادہ وقت ان کے قریب رہتے اور ان کی نگرانی کرتے رہتے۔

خرگوش کھیتوں سے فارغ ہو کر کنارے پر موجود کچرے کے ڈھیر پر آجاتا جہاں گاؤں کے لوگ خالی بوتلیں اور بے کار سامان پھینک دیتے تھے۔ کچرے کے ڈھیر کے قریب ہی ایک چھوٹی سی بل تھی جہاں وہ خرگوش اپنی بیوی بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ خرگوش اکثر کچرے پر پڑی ہوئی اشیاء کا جائزہ لیتا اور ان میں سے کام کی چیزیں اُٹھا کر بل میں لے جاتا۔ ایک دن اس نے کچرے کے ڈھیر میں کئی پھٹی پٹ سن کی بوری دیکھی ۔ قریب جا کر اس نے اسے الٹ پلٹ کر دیکھا

تو اسے محسوس ہوا کہ اگر اس کا بستر بنا لیا جائے تو وہ آرام دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ ابھی اس شش و پنج میں تھا کہ کہیں سے ایک چوہا نکل کر وہاں آ گیا۔ اس نے خرگوش سے پوچھا کہ وہ پٹ سن کی بوری کا کیا کرے گا ؟ خرگوش نے ہنس کر اسے اپنے ارادے سے مطلع کیا۔ چوہا اس کی عقلمندی سے بڑا متاثر ہوا۔


 اس نے پٹ سن کی بوری کے استعمال پر اس کی تعریف کی ۔ اس دن کے بعد چو ہے اور خرگوش میں دوستی ہوگئی۔ وہ دونوں روز اس جگہ پر ملتے اور گھنٹوں باتیں کرتے رہتے ۔ ایک دن خرگوش نے پریشانی کے عالم میں اپنے بچوں کی لا پروائی اور حماقت آمیز رویے کا ذکر کیا کہ وہ ان کی نگرانی کے باعث ان کے ساتھ جڑا رہنے پر مجبور ہے اور اس وجہ سے وہ دونوں میاں بیوی صحیح طرح کام نہیں کر پاتے ۔ چوہے نے یہ سن کر اسے مشورہ دیا

کہ وہ اپنے بچوں کو ساتھ ساتھ لئے پھرنے کے بجائے اسی جگہ پر چھوڑ دیا کرنے اور انہیں پیار سے سمجھا دے کہ جو نہی کوئی اجنبی وہاں آئے تو وہ اپنے اوپر گھاس پھوس ڈال کر خود کو اچھی طرح چھپا لیا کریں۔ میں تو سارا دن یہیں موجودرہتا ہوں ان کی نگرانی کرتا رہوں گا۔

 خرگوش نے بتایا کہ بچے بڑے شرارتی ہیں وہ گھاس پھوس میں چھپے نہیں رہیں گے۔ چوہے نے سختی برتنے کیلئے کہا تو خرگوش کچھ جیل و حجت کے بعد رضامند ہو گیا۔ خرگوش نے اپنی بیوی سے اس بات کا ذکر کیا تو اس نے چوہے کے مشورے کو JAN مناسب قرار دیا۔ خرگوش نے اپنے بچوں کو اکٹھا کر کے بڑے پیار سے سمجھایا کہ وہ آئندہ ان کے ساتھ نہیں جائیں گے بلکہ یہیں ٹھہریں گے۔ زیادہ اچھا تو یہی ہو گا کہ وہ اپنی بل میں رہیں لیکن اگر وہ کھیلنے کودنے کیلئے باہر نکلیں تو ہوشیار رہیں، جونہی کوئی شخص وہاں آتا دکھائی دے تو وہ جلدی سے خود کو گھاس پھوس میں چھپا لیا کریں۔ بچوں نے وعدہ کیا کہ وہ ایسا ہی کریں گے۔ اس دن کے بعد وہ دونوں میاں بیوی بے فکری سے کام پر جانے لگے اور بچے وہاں چوہے کی نگرانی میں کھیلتے رہتے۔ جونہی کوئی اجنبی اس طرف سے گزرتا تو چوہا انہیں خبردار کر دیتا اور وہ گھاس پھوس میں چھپ جاتے ۔

ایک دن کی بات ہے کہ خرگوش کے بچے مزے سے کھیل کود میں مصروف تھے کہ چوہے نے ایک شکاری کو اس طرف آتے دیکھا۔ اس کے پاس بڑا سا تھیلا تھا اور کندھے پر بندوق پڑی تھی ۔ چوہے نے بچوں کو فوراً خبر دار کیا کہ آنے والا شخص عام آدمی نہیں ہے بلکہ شکاری ہے

 جو خرگوشوں کی تلاش میں ادھر آرہا ہے۔ وہ گھاس پھوس میں فوراً چھپ جائیں اور جب تک میں نہ کہوں کوئی اپنی جگہ پر حرکت نہ کرے۔ بچوں نے چوہے کی ہدایت پر خود کو گھاس پھوس میں چھپا لیا۔ شکاری جب کچرے کے ڈھیر کے قریب پہنچا تو اسے وہاں خرگوشوں کی موجودگی کا احساس ہوا۔

اس نے وہاں رک کر جائزہ لینا شروع کر دیا۔ کافی دیر تک کی کوشش کے باوجود اسے کچھ دکھائی نہ دیا۔ چوہا ایک خالی ٹن میں چھپا شکاری کی حرکات دیکھ رہا تھا۔ اسے معلوم ہو گیا تھا کہ شکاری کو شک پڑ چکا ہے کہ وہاں خرگوش موجود ہیں۔ جب کچھ دیر گزرگئی اور چوہے کی آواز بھی سنائی نہیں دی تو بچوں میں بے چینی سی پیدا ہونے لگی۔ انہوں نے گھاس میں سر نکال کر ادھر اُدھر دیکھنا شروع کر دیا۔ ان کے بڑے بڑے کان گھاس سے باہر نکلے تو شکاری کو فوراً پتہ چل گیا کہ وہ کہاں چھپے ہوئے ہیں ؟

 اس نے اپنا تھیلا اُتارا اور اسے کھول کر زمین پر رکھ دیا۔ پھر نرم ہاتھوں سے اس نے بچوں کو پکڑا اور ایک ایک کر کے تھیلے میں ڈالنے لگا۔ بچے خاصے سہمے ہوئے تھے۔ اس نے چھ کے چھ بچے تھیلے میں ڈال کر اس کا منہ اوپر سے بند کر دیا اور رسی کی گانٹھ لگا کر ایک طرف چل دیا۔ چوہا یہ دیکھ کر بے حد پریشان ہوا۔ وہ تیزی سے شکاری کے تعاقب میں ہولیا کیونکہ اس نے خرگوش سے بچوں کی نگرانی کا وعدہ کیا تھا۔ شکاری چلتے چلتے گاؤں میں پہنچ گیا اور بڑے سے گھر میں داخل ہو گیا ۔

 اس نے کمرے کے باہر صحن میں موجود ایک درخت کے نیچے خرگوشوں کا تھیلا رکھا اور خود کمرے کے اندر چلا گیا۔ چوہا یہ دیکھ تیزی سے واپس پلٹا۔ وہ جب کچرے کے ڈھیر پر پہنچا تو وہاں اسے بچوں کی ماں دکھائی دی جو کسی کام سے واپس لوٹ آئی تھی۔ چوہے نے اسے ماجرا بتایا تو وہ رونے لگی۔ چوہے نے اسے تسلی دی اور کہا کہ وہ شکاری کے گھر کی طرف چلی جائے اور دیکھے کہ وہ شکاری تھیلا لے کر نکل تو نہیں گیا۔ میں اتنی دیر میں خرگوش کو ساتھ لے کر آتا ہوں ۔ چوہے نے اسے شکاری کا پتہ اچھی طرح سمجھا دیا

 اور خود بھاگتا ہوا کھیت میں پہنچا جہاں خرگوش کام کر رہا تھا۔ چوہے کو بوکھلا یا دیکھ کر وہ جلدی سے اس کے قریب آ گیا اور اس سے خیرت دریافت کی۔ چوہے نے شکاری کے بارے میں بتایا تو خرگوش نے وقت ضائع کئے بغیر چوہے کے ساتھ شکاری کے گھر کی راہ لی۔ بچوں کی ماں شکاری کے گھر پہنچ چکی تھی۔ اسے دور سے ہی بچوں کا تھیلا دکھائی دے گیا تھا۔ اس نے تھیلے کا جائزہ لیا تو اس کی گانٹھ بے حد مضبوط پائی۔ وہ کافی کوشش کے بعد نا کام ہو کر وہیں بیٹھ گئی ۔

 اتنی دیر چوہا خرگوش کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔ خرگوش نے اپنی بیوی کو تسلی دی اور گانٹھ کھولنے کی کوشش کی مگر وہ بھی ناکام رہا۔ چوہے نے یہ دیکھ کر انہیں پیچھے ہٹنے کیلئے کہا اور خود تھیلے پر چڑھ گیا۔ اس نے اپنے تیز نوکیلے دانتوں سے وہ رسی ہی کاٹ ڈالی جس سے تھیلے کا منہ بندھا ہوا تھا۔

 تھیلا کھلتے ہی خرگوش کے بچے پھدکتے ہوئے باہر نکل آئے ۔ خرگوش نے قریب پڑے ہوئے مختلف پھل اور سبزیاں اس تھیلے میں بھر دیں تا کہ شکاری کو تھیلا خالی ہونے کا احساس نہ ہو پائے۔ اس کے بعد دونوں میاں بیوی نے خوب زور لگا کر تھیلا کا منہ رسی سے باندھ دیا۔ شکاری تھیلے سے بے فکر کمرے میں اپنے کام میں مصروف تھا اسے خبر ہی نہ ہوسکی کہ باہر کیا تماشہ ہورہا ہے؟ خرگوش نے تیزی سے اپنی بیوی بچوں کو ساتھ لیا اور کھیت کی طرف روانہ ہو گیا۔

چوہا بھی ان کے ساتھ تھا۔ خرگوش نے کھیت میں پہنچ کر اپنے لئے نیا ٹھکانہ ڈھونڈا اور اپنی بیوی بچوں کو وہاں ٹھہرایا۔ اس کے بعد اس نے چوہے کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا کہ اس نے حقیقتا دوستی کا حق نبھایا تھا۔ چوہے نے اسے کہا کہ دوسروں کے کام آنا بڑی عبادت ہے کیونکہ اس اللہ بہت خوش ہوتا ہے. دیکھا بچو! لا پروائی کا نجام کیا ہوتا ہے؟ اگر بڑے کسی بات کے بارے میں سمجھائیں اور منع کریں تو اس پر پوری طرح عمل کرنا چاہئے ورنہ نتیجہ برا نکلتا ہے۔