Khidmat ka Inaam- خدمت کا انعام - Kids Urdu Books wishenow

Khidmat ka Inaam- خدمت کا انعام - Kids Urdu Books wishenow

Khidmat ka Inaam- خدمت کا انعام - Kids Urdu Books wishenow

خدمت کا انعام


خدمت کا انعام پیارے بچو! پہاڑوں کے دامن میں واقع خوبصورت وادی کے ایک گاؤں میں ایک پیاری سی لڑکی رہتی تھی جس کا نام را مین تھا۔ اسے نئے نئے کپڑے پہنے کا بڑا ہی شوق تھا۔ یہ الگ بات تھی کہ وادی میں زیادہ تر موسم سر درہتا اور رامین کو سردی سے بچنے کیلئے پیارے پیارے کپڑوں کے اوپر موٹی اوٹی جیکٹ پہنا پڑتی جس سے دیکھنے والوں کو اس کے نئے کپڑوں کی خوبصورتی دیکھائی نہیں دیتی تھی۔

 رامین کو اس بات کا شدید احساس تھا مگر وہ اس بارے میں کیا کر سکتی تھی؟ سردی کا موسم ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ ایک دن کی بات ہے کہ رامین نے عمدہ لباس پہنا اور اس پر اپنی نیلی جیکٹ چڑھائی سر پر ٹوپی پہنی اور گھر سے باہر نکلی ۔

وہ ٹہلتی ہوئی گھر کے فارم کی طرف نکل آئی جہاں پالتو مویشی رہتے تھے۔ فارم کے صحن میں مرغیاں دانے چگ رہی تھیں ۔ ایک مرغی کی نظر جب رامین پر پڑی تو وہ اس کے قریب چلی آئی۔ رامین نے جھک کر مرغی کو پرکا را۔ مرغی ہنس کر بولی کہ رامین ! آج تم بڑی نکھری نکھری دکھائی دے رہی ہو کہاں جانے کا ارادہ ہے ؟ رامین اپنی تعریف سن کر پھولے نہ سمائی اور خوش ہو کر اس نے بتایا کہ وہ آج خالہ سلائی والی کے گھر جانے کا سوچ رہی ہے۔

 کئی دن ہو گئے ہیں، خالہ نے کوئی نیا کپڑاسی کر نہیں بھیجا۔ معلوم نہیں کہ اس کی طبیعت کیسی ہے؟ سوچا کہ اسی بہانے خیریت بھی معلوم ہو جائے گی اور نئے کپڑوں کے بارے میں بھی معلوم ہو جائے گا۔ مرغی نے یہ سن کر سر ہلاتے ہوئے کہا کہ

” دوسروں کی خیریت معلوم کرتے رہنا بہت اچھی عادت ہے۔ رامین کا ارادہ شاید بدل جاتا مگر جب اس نے مرغی کی بات سنی تو اس نے پکا فیصلہ کر لیا کہ وہ آج ضرور خالہ سلائی والی کے گھر جائے گی اور اس کی خیریت دریافت کرے گی۔ یہ سوچ کر رامین نے خالہ کے گھر کی راہ لی۔ خالہ سلائی والی کا گھر رامین کے گھر سے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹی سی پہاڑی میں واقع تھا۔ رامین پتھروں پر چلتی ہوئی خالہ کے گھر پہنچ گئی ۔ گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ رامین نے دروازے پر پہنچ کر دستک دی۔ اندر سے خالہ کی کانپتی ہوئی آواز سنائی دی۔ رامین نے اپنے بارے میں بتایا تو خالہ نے اسے اندر چلے آنے کیلئے کہا۔ رامین جب کمرے میں داخل ہوئی

 تو اس نے دیکھا کہ خالہ بڑے آتش دان کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے بڑے موٹے کپڑے پہنچ رکھے تھے۔ رامین نے خالہ کو سلام کیا اور خیریت دریافت کی۔ خالہ نے اسے بتایا کہ سردی کی ٹھنڈی لہر کی وجہ سے اسے بخار ہو گیا ہے۔ دو تین دن ہو گئے ہیں مگر بخار پیچھا نہیں چھوڑ رہا۔ رامین یہ سن کر اداس ہوگئی۔ اس نے خالہ سے پوچھا کہ اس نے کچھ کھایا پیا بھی ہے یا نہیں۔ خالہ نے بتایا کہ وہ تو بڑھیا عورت ہے بخار کی وجہ کام وغیرہ نہیں

ہو پاتا کھانا پکانا وہ کیسے کرے؟ رامین نے یہ سن کر جلدی سے گرم گرم سوپ تیار کیا اور پیالے میں ڈال کر خالہ کو دیا۔ خالہ نے سوپ پیا تو اس کی حالت کچھ بہتر ہوئی۔ رامین نے خالہ کو دوا بھی کھلائی جس سے بخار جلدی اتر جاتا تھا۔ خالہ کے اصرار پر اسے بھی گرم سوپ پینا پڑا ۔

رامین نے انکار نہیں کیا اور شکریے کے ساتھ گرم گرم سوپ کے مزے لینے لگی۔ سوپ سے فارغ ہو کر خالہ اپنی جگہ سے اٹھی اور ایک الماری میں سے فراک نکالی۔ اس نے فراک رامین کے سامنے پھیلا دی۔ زرد رنگ کی فراک آنکھوں کو بڑی بھلی دکھائی دیتی تھی۔ رامین فراک دیکھ کر خوش ہوئی۔ خالہ نے بتایا کہ اس نے بخار کے عالم میں یہ خاص طور پر اس کیلئے تیار کی ہے۔ رامین نے کہا کہ خالہ ! آرام کرنا زیادہ بہتر تھا، فراک تو پھر بھی کی جاسکتی تھی۔


 خالہ نے کہا کہ بیٹی ! میں فارغ بیٹھے بیٹھے تھک جاتی ہوں، سوچا کہ چلو کچھ نہ کچھ کرتی رہوں تا کہ وقت کٹ جائے ۔ رامین نے خالہ کی دلجوئی کیلئے ڈھیر ساری باتیں کیں۔ خالہ نے اچانک فرمائش کی کہ رامین یہ فراک اسے ذرا پہن کر تو دکھائے۔ رامین نے ہچکچاہٹ دکھائی تو خالہ کا منہ لٹک گیا۔ یہ دیکھ کر رامین نے اپنی موٹی جیکٹ اتاری اور فراک خالہ کے ہاتھ سے لے کر پہن لی۔ فراک اس کے بدن پر بڑی بیچ رہی تھی۔ رامین نے کمرے میں موجود بڑے آئینے میں کود کو دیکھا تو دم بخودرہ گئی ۔ وہ کسی الف لیلوی پری سے کم دکھائی نہیں دے رہی تھی ۔ خالہ نے اپنی موٹی موٹی آنکھوں سے فراک کا معائنہ کیا۔ وہ اس میں خامیاں تلاش کر رہی تھی ۔


 جب اسے کوئی خامی نہ ملی تو اس نے وہ فراک رامین کو دے دی۔ رامین نئی فراک پا کر بڑی خوش ہوئی۔ رامین نے فراک اتار کر تہہ کر کے ہاتھ میں پکڑ لی۔ اسی دوران دوا کی دوسری خوراک کا وقت ہو گیا۔ رامین نے خالہ کو دوا نکال کر دی اور اپنے ہاتھوں سے کھلائی۔ خالہ دوا کھا کر کرسی پر بیٹھ گئی۔ اسی دوران رامین نے سوپ کا اور پیالہ بنا کر خالہ کو دیا۔ خالہ نے سوپ لے کر آہستہ آہستہ پیا۔ دوا اور گرم سوپ سے اس کی حالت کافی بہتر ہو گئی تھی۔ بخار کی وجہ سے جسم میں اٹھنے ٹیسیں مدھم پڑ چکی تھیں ۔

 خالہ آہستہ سے اٹھی اور اس نے الماری کھول کر اس میں اس میں سے ایک سرخ رنگ کی بڑی دیدہ زیب نمیض نکالی۔ وہ بڑی چمکدار اور جاذب نظر دکھائی دیتی تھی۔ رامین نے جب اسے دیکھا تو اس کا دل مچل اُٹھا۔ ایسی خوبصورت نمیض اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی ۔ وہ اسے دور سے دیکھ کر چلائی ۔ ”ہائے اللہ ! خالہ یہ تو کوئی جادوئی چیز دکھائی دیتی ہے کیا یہ پرستان سے لائی ہو ؟ خالہ اس کی بے تابی دیکھ کر ہنسنے لگی ۔ خالہ دھیرے دھیرے چلتی ہوئی اس کے مقابل پہنچ گئی۔ رامین نے سرخ تمیض ہاتھ میں لے کر دیکھی تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ وہ بالکل گلاب کے پھول کی سی ملائم اور ہلکی پھلکی تھی۔ اس پر ڈھیر سارے ستارے جگمگا رہے تھے۔

رامین کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کے ہاتھوں میں واقعی وہ قمیض موجود ہے اس نے خود کو چٹکی بھری کہ کہیں یہ سب خواب تو نہیں ہے۔ خالہ اس کی حالت سے محفوظ ہوتی رہی۔ رامین کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا کہ سرخ قمیض اسے مل جائے مگر اسے اس بات کا خوف تھا کہ اگر خالہ نے انکار کر دیا تو پھر وہ کیا کرے گی؟ خالہ! یہ کپڑا بڑا عجیب سا ہے پہلے تو میں نے ایسا کپڑا کبھی نہیں دیکھا۔“ رامین نے دریافت کیا۔ خالہ نے جواب دیا کہ یہ کپڑا نہایت قیمتی ہوتا ہے

 اسے کھو اب کہتے ہیں۔ بہت ہی کم تیار کیا جاتا ہے اور بڑے خوش نصیبوں کو ہی پہنا نصیب ہوتا ہے۔ یہ کپڑا میں نے خود کئی سال پہلے تیار کیا تھا اور اس پر ستاروں سجائے۔ پھر میں اسے رکھ کر بھول گئی، پچھلے دنوں مجھے جب یہ نظر آیا تو سوچا کہ اس کی قمیض ہی بنا دوں جب قمیض تیار ہوئی تو میں خود بھی بڑی مسرور ہوئی کیونکہ میں اس کی خوبصورتی کے بارے میں ، میں نے صرف سن رکھا تھا۔ رامین نے حسرت بھری نظروں سے نمیض خالہ کو لوٹا دی کیونکہ یہ اس کی کئی سالوں کی محنت تھی ۔

 وہ بھلا اسے کیونکر دے دیتی ۔ خالہ اس کے دل کی بات جان چکی تھی۔ اس نے اس کا شانہ تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ ” بیٹی ! آج تم نے میری بڑی خدمت کی ہے اگر تم نہ یہاں چلی آتی تو شاید میں تنہا بخار ہی مرگئی ہوتی۔ مجھ میں تو اتنی ہمت نہیں تھی کہ گھر میں رکھی ہوئی دوا ہی کھا لیتی ۔ تمہاری ہمدردی اور خدمت کا میں صرف یہی انعام دے سکتی ہوں کہ تم یہ قمیض میری طرف سے تحفتا رکھ لو۔“ رامین کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ اس نے حیرت سے خالہ کی طرف دیکھا جو اسے پیار بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔


 اسی دوران باہر کسی جانور کے بولنے کی آواز سنائی دی۔ رامین آواز سن DO کر چونک پڑی۔ یہ گیڈر کی آواز تھی جو رات کے وقت بولتا تھا۔ رامین کو وقت کا احساس ہی نہ ہوا کہ کب دن ڈھل گیا اور رات ہوگئی۔ اس نے خالہ سے رخصت طلب کی۔ خالہ نے کہا کہ اندھیرا کافی زیادہ ہو چکا ہے اس لئے وہ اکیلی نہ جائے ۔ رامین خالہ کے ساتھ چلتی ہوئی دروازے پر آن پہنچی۔ رامین نے ایک ہاتھ میں تہہ کی ہوئی فراک پکڑ رکھی تھی جبکہ دوسرے ہاتھ میں کمخواب کی سرخ تمیض ۔


خالہ نے ادھر ادھر دیکھا کہ شاید کوئی نظر آ جائے جس کے ساتھ وہ رامین کوگھر روانہ کر دے۔ ابھی وہ سوچ رہی تھی کہ وہاں خرگوش دکھائی دیئے ۔ وہ سرخ قمیض دیکھ کر ان کے پاس چلے آئے ۔ ایک خرگوش نے خالہ سے کمخواب کی قمیض کے بارے میں پوچھا کہ اتنا پیارا کپڑا کہاں سے آیا ہے؟ خالہ نے اسے سارا ماجرا بتایا اور کہا کہ اس نے یہ میض رامین کو دے دی ہے۔ خرگوش نے قمیض کو ہاتھ میں لے کر دیکھا تو اس کے منہ پانی بھر آیا۔ ایسا شاندار کپڑا اس نے زندگی بھر میں نہیں دیکھا تھا۔
 خرگوش کو بڑا قلق ہوا کہ وہ تو خالہ کے گھر کے قریب ہی رہتا تھا اسے خالہ کی خدمت کا خیال کیوں نہیں آیا۔ اگر وہ خالہ کی تیمارداری کرتا تو یہ قمیض یقینا اسے مل جاتی۔ اس نے تاسف اور ندامت سے قمیض رامین کے حوالے کر دی۔ رامین نے قمیض لے کر فراک کے اندر چھپا دی تا کہ اسے کوئی دوسرانہ دیکھ سکے۔ خالہ نے رامین کو ساتھ لیا اور اسے گھر تک چھوڑنے چلی آئی حالانکہ رامین بہتیرا منع کیا مگر وہ نہیں مانی۔ پیارے بچوں کیلئے پیاری پیاری اور سبق آموز رنگین کہانیوں کی خوبصورت کتابیں