kids stories Umar se bada kaam wishenow | عمر سے بڑا کام

Kids  Stories Umar se Bada Kaam wishenow

kids stories Umar se bada kaam wishenow | عمر سے بڑا کام

عمر سے بڑا کام

عمر  سے بڑا کام ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک باغ میں دو ننھے چو ہے رہا کرتے تھے۔ ایک کا نام مونی تھا اور دوسرے کا نام سونی تھا۔ وہ دونوں اپنے ماں باپ کے ساتھ خوش و خرم زندگی بسر کر رہے تھے۔ وہ تمام دن باغ میں خوب کھیلا کرتے۔ تمام باغ ان کیلئے کھیل کا میدان تھا۔ وہ روزانہ صبح سویرے جاگ جاتے اور کھانا کھانے کے بعد باغ کی راہ لیتے ۔ انہیں صبح کی بھینی بھینی ہوا بے حد بھاتی تھی۔Urdu Kahani for children naik dil blongdi pdf free download
async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-3874488834241536" crossorigin="anonymous">
 وہ جست لگا کر کبھی درخت کی کھوہ میں جا گھستے تو کبھی کودتے کو دتے کسی پودے کو ستاتے ۔ یہ ان کا روزانہ کا معمول بن چکا تھا۔ باغ کی کیاریاں، پودے اور درخت ہر جگہ ان کی شرارتیں رنگ لاتیں۔ جب کافی دن یونہی گزر گئے تو وہ باغ کی دُنیا سے بے زار ہونے لگے۔ باغ کا ہر کونا ان کا دیکھا بھالا تھا۔ کوئی ایسی جگہ باقی نہ بچی تھی جہاں وہ نہ گئے ہوں۔ ان کی عمر بھی اتنی نہ تھی کہ وہ سکول جایا کرتے۔


ان کے ماں باپ باغ میں کام کرتے اور روزانہ کھانے پینے کا بندوست کرتے رہتے ۔ کبھی کبھار ان کی ماں باغ سے باہر چلی جاتی تھی لیکن جب وہ واپس لوتی تو اس کے پاس کھانے کیلئے بڑی مزیدار چیزیں ہوا کرتی تھیں۔ مونی اور سونی یہ سمجھ چکے تھے باغ کے باہر کی دنیا میں بڑی لذیذ چیزیں ملتی ہیں۔ باغ کے پھل اور پتے کھا کھا کر وہ اکثر اکتا جاتے۔ وہ کئی بار اپنی ماں سے شہد، ٹافیوں اور مزیدار چیزوں کی فرمائشیں بھی کرتے تھے


 مگر ان کی ماں جنس کر ٹال جاتی ۔ جب کبھی وہ باغ سے باہر جاتی تو ان کی فرمائشیں پوری بھی کر دیا کرتی تھی ۔ دونوں بچوں کا اکثر دل لچا تا کہ وہ بھی باغ سے باہر کی دنیا میں جائیں اور اپنی من پسند چیزیں کھایا کریں مگر انہیں باغ سے باہر جانے کی قطعاً اجازت نہیں تھی ۔ ایک دن سونی نے مونی سے کہا کہ ہمیں کچھ نیا کرنا چاہئے۔ باغ میں روزانہ کھیل کھیل کر اب تو مزہ بھی نہیں آتا۔


وہی درخت ، وہی جھاڑیاں اور وہی کھوہ . ہمیں نئے کھیل تلاش کرنا چاہئیں ۔ مونی یہ سن اچھل پڑا کیونکہ وہ بھی کئی دنوں سے یہی سوچ رہا تھا کہ اب پرانی چیزوں کو چھوڑ کر کچھ نیا کرنا چاہئے ۔ اس نے سونی کا حوصلہ بڑھایا اور کہا کہ میں بھی یہی سوچ رہا ہوں کہ کچھ ایسا کام کرنا چاہئے جو ہم نے آج سے پہلے کبھی نہ کیا ہو۔ سونی اس کی بات سن کر مرجھا سا گیا اور بولا کہ بھائی مونی اگر کوئی گڑ بڑ ہوگئی تو ممی پاپا ہمیں بے حد ڈانٹیں گے۔


 مونی نے سر ہلایا اور کہا کہ ہمیں باغ سے باہر نکل کر سیر کرنا چاہیئے۔ اس طرح ہمیں باہر کا ماحول بھی دیکھنے کو ملے گا اور کھانے پینے کیلئے ڈھیر ساری چیزیں بھی مل جائیں گی۔ سونی اس کی بات سن کر ڈر گیا اور بولا کہ بھائی مونی اگر می پاپا کو یہ معلوم ہو گیا کہ ہم باغ سے باہر گئے تھے تو پھر ہماری خیر نہیں۔ مونی ہنس کر بولا۔ ارے بدھو! ہم ممی پاپا کو بتائیں گے ہی نہیں کہ ہم باغ سے باہر گئے تھے۔ سونی برا سا منہ بنا کر بولا۔


The Story Of Salah-ad-Din And The Frankish Boy


 بھائی مونی ! کیا ہم جھوٹ بولیں گے؟ جانتے ہو کہ جھوٹ بولنا بری بات ہے۔ مونی نے اس کے کندھے پر تھپکی دی اور کہا۔سونی ! اگر کچھ نیا کرنا ہے کہ تو چھوٹا موٹا جھوٹ تو بولنا ہی پڑے گا اور ہم باغ سے باہر تھوڑی ہی دور جائیں گے ۔ زیادہ دور نہیں۔ اس لئے ہم جلدی ہی لوٹ آئیں گے۔ میں پاپا کو یہ معلوم ہی نہیں ہوگا کہ ہم باغ سے باہر گئے تھے تو پھر بھلا ہمیں جھوٹ بولنے کی ضرورت پڑے گی ؟


 سونی نے کچھ ہی دیر میں مونی کی بات مان لی اور وہ چپکے چپکے باغ کے دروازے کی طرف چل پڑے۔ اس دن اس کے ممی پاپا باغ کے پچھواڑے میں تھے اس لئے انہیں پتہ ہی نہیں چلا کہ ان کے بچے باغ سے باہر نکل گئے ہیں۔ باغ کے باہر وہ کھلی سڑک پر پہنچ گئے جہاں لوگ آجا رہے تھے۔ اتنے سارے لوگوں کو دیکھ کر سونی تو ڈر گیا اور واپس جانے کی ضد کرنے لگا مگر مونی نے اس کی بات نہیں مانی اور اسے کھینچتا ہوا آگے چل پڑا۔


 وہ دونوں فٹ پاتھ کے کنارے کنارے چلتے رہے۔ باغ کی حد ختم ہوئی تو انہیں ایک بڑی دکان دکھائی دی جس کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ وہ دونوں چپکے سے اس میں داخل ہو گئے ۔ وہ جو نبی اندر پہنچے تو ان کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں کیونکہ دکان کھانے پینے کے سامان سے بھری پڑی تھی ۔ سامنے بڑی بڑی الماریاں دکھائی دے رہی تھیں جن میں مربے، شہد اور میٹھے مشروبات کے مرتبان رکھے ہوئے تھے۔


 مختلف قسم کے اناج اور دالوں کے تھیلے سجے ہوئے تھے۔ یہ دراصل کھانے پینے کی اشیاء کی دکان تھی۔ انہیں خیال آیا کہ ان کی ماں یقیناً یہیں سے ان کیلئے مزے مزے کی چیزیں لایا کرتی تھی۔ وہ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ یہ جگہ باغ سے کچھ زیادہ دور بھی نہیں تھی پھر ان کی ماں روزانہ ان کی فرمائشیں پوری کیوں نہیں کرتی تھی ؟ وہ دونوں ہر چیز سے بے خبر ہو کر دکان کے مختلف حصوں کی سیر کرتے رہے۔


 ان جگہ انہیں دو اخروٹ ملے جو ان کے قد کے لحاظ سے کافی بڑے تھے۔ دونوں نے ایک ایک اخروٹ اُٹھایا اور ایک کونے میں آگئے ۔ اخروٹ توڑنے میں انہیں کافی مشکل ہوئی مگر جوش کے باعث وہ اخروٹ توڑنے میں کامیاب ہو گئے ۔ بڑی بڑی خوشبو دار گریاں دیکھ کر ان کے منہ میں پانی بھر آیا۔ مونی نے سوئی کو کہا کہ خالی گری کھانے سے مزہ نہیں آئے گا تم یہیں رکھ میں شہد کی بوتل اتار کر لاتا ہوں


 اخروٹ کی گری کو شہد میں بھگو کر کھانے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ سونی یہ سن کر رک گیا۔ مونی اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوا اور تھوڑی دیر بعد جب واپس لوٹا تو اس کے قد سے بڑا مرتبان اس کے ساتھ تھا جسے وہ بمشکل دھکیلتا ہوا لا رہا تھا۔ دونوں بھائیوں نے مل کر شہد کے مرتبان کا ڈھکن کھولا اور اپنی اپنی گریاں اس میں بھگو کر کھا ئیں ۔ آج پہلی مرتبہ انہوں نے دل کھول اخروٹ کی گریاں کھائی تھیں۔


 ایسا کرنے میں انہیں بڑا مزہ آیا۔ وہ بھول چکے تھے کہ وہ اپنے گھر سے دور ہیں اور انہیں جلدی واپس بھی لوٹنا ہے۔ جب اخروٹ کی گریاں ختم ہو گئیں تو انہوں نے وہاں سے کوچ کیا اور چلتے چلتے ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں خشک دودھ کا ایک ڈبہ گرا ہوا تھا۔ دودھ کا ڈبہ دیکھ کرمونی نے فوراً ڈبہ کترنے کا اعلان کر دیا۔ سونی بھی اس سے پیچھے نہیں رہا۔ دونوں نے مل کر دودھ کا ڈبہ ایک کنارے سے کستر دیا جس سے خشک دودھ ڈبے سے باہر نکل آیا۔


 دونوں بچوں نے دونوں ہاتھوں سے خشک دودھ کو خوب کھایا۔ ایسا کرنے میں بڑا مزہ آرہا تھا اچانک انہیں اپنے قریب عجیب سی دھمک محسوس ہوئی۔ انہوں نے جب گردن گھما کر دیکھا تو ایک بڑا جوتا ان کی طرف آتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ کوئی گاہک تھا جو ان کے بالکل قریب سے گزر گیا اگر اس کا پاؤں تھوڑا سا گھوم جاتا تو یقیناً وہ دونوں بچے اس کے بھاری بھر کم پاؤں کے نیچے پچلے جاتے۔ وہ دونوں وہاں بھاگ نکلے۔


 جان بچ جانے پر دونوں نے شکر ادا کیا۔ خشک دودھ کھانے سے ان کا حلق سوکھ ہو رہا تھا۔ انہوں نے ادھر ادھر پانی تلاش کیا مگر وہاں پانی کا نام ونشان بھی نہیں تھا۔ پانی نہ ملنے پر وہ واپس و ہیں لوٹ آئے جہاں شہد کا مرتبان کھلا پڑا تھا۔ انہوں نے پانی جگہ شہد پیا۔ شہر بڑا مزے کا تھا وہ بے خیالی میں بہت زیادہ شہد پی گئے جس کے باعث ان کا پیٹ پھول گیا۔ اب تو ان دونوں کو چلنا دشوار دکھائی دے رہا تھا۔ جب وہ مشکل میں گرفتار ہوئے


 تو انہیں اپنے ممی پاپا کی یاد آئی۔ اس خیال نے ان کے چودہ طبق روشن کر دیئے۔ انہیں یاد آ گیا کہ باغ سے نکلے ہوئے بڑی دیر گئی تھی ۔ سونی نے کہا کہ بھائی مونی ! مجھے لگتا ہے کہ باہر شام پڑ چکی ہے۔ ہمیں اندھیرا پھیلنے سے پہلے پہلے گھر لوٹ جانا چاہئے ۔ ان کا خیال غلط بھی نہیں تھا کیونکہ وہ کھیل کود میں تمام دن گزار چکے تھے اور باہر واقعی اندھیرا پھیل رہا تھا۔ ان کے ممی پاپا ان کیلئے بڑے پریشان ہو رہے تھے


کیونکہ انہوں نے باغ کا کونا کونا چھان مارا تھا۔ دونوں نے دن بھر خوب ٹافیاں اور مزے مزے کی چیزیں کھا ئیں اور ڈھیر سارا شہد پی لیا تھا۔ اس لئے ان سے اب ٹھیک سے چلا بھی نہیں جارہا تھا۔ وہ گرتے پڑتے دکان کے دروازے پر پہنچے تو بند دروازہ دیکھ کر ان کے طوطے اڑ گئے ۔ دکانداران دونوں سے بے خبر دکان بند کر کے جاچکا تھا۔ سونی تو اب رونے لگا کہ گھر کیسے واپس جائیں گے۔ مونی نے اسے تسلی دی اور دکان کے مختلف حصوں میں جھانکا


 کہ شاید باہر جانے کیلئے کوئی راہ لی جائے مگر ایسا کوئی سوراخ نہ ملا۔ مونی کا منہ اتر گیا۔ سارے دن کی خوشیاں مٹ گئیں۔ باہر گہرا اندھیرا پھیل چکا تھا۔ سونی کو اب نیند آرہی تھی ۔ اس نے اپنے بھائی کو نیند کا بتایا تو مونی اور پریشان ہو گیا۔ کافی دیر کی تگ و دو کے بعد جب ان سے کچھ بن نہ پڑا تو وہ تھک ہار کر ایک کونے میں آگئے اور دعائیں کرتے کرتے سو گئے ۔ وہ رو ر ہے تھے اور اللہ سے معافیاں مانگ رہے


 کہ انہوں نے اپنے والدین کا کہنا نہیں مانا اور اپنی مرضی کی جس کے باعث انہیں سزا ملی۔ انہیں معلوم ہی نہ ہو
 پایا کہ کب صبح ہو گئی ۔ وہ تو دکان میں قید تھے اور رات بھر بے خبر سوتے رہے مگر ان کے ماں باپ ساری رات نہیں سو پائے۔ وہ ہلکی سی آہٹ پر دروازے پر پہنچ جاتے کہ شاید ان کے بچے واپس لوٹ آئے ہیں۔ مونی کی آنکھ ایک عجیب سی آواز پر کھل گئی۔ اس نے دیکھا کہ سونی اس پر چڑھ کر سورہا تھا۔


 اس نے سوئی کو جگایا۔ سونی سے آنکھیں مسل کر دیکھا خود کو دکان میں پا کر وہ بڑا غمگین ہوا۔ اسے یاد آ گیا تھا کہ وہ رات بھر گھر نہیں گئے ۔ دونوں نے کونے سے گردن نکال کر دیکھا تو دکاندار اشیاء کو کپڑے سے جھاڑتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ بہت خوش ہوئے کہ دروازہ کھل چکا ہے۔ انہیں اب دکان میں پڑی مزے مزے کی اشیاء ذرا اچھی نہیں لگ رہی تھیں اور نہ ہی مصیبت موجود تھی۔ ایک خوفناک شکل والی بلی دروازے میں بیٹھی زبان سے اپنے پاؤں چاٹ رہی تھی۔ بلی کو دیکھتے ہی ان کی گھگی بندھ گئی ۔


وہ دونوں وہیں دبک کر بیٹھ گئے۔ بلی کو ہلکی سی آہٹ محسوس ہوئی تو وہ اپنی جگہ سے اُٹھے کھڑی ہوئی اور دروازے سے اندر جھانکنے لگی شاید اس نے چوہوں کی بو سونگھ لی تھی ۔ اسی لمحے دکاندار نے بلی کو وہاں سے مار بھگایا۔ شاید وہ نہیں چاہتا کہ بلی اس کی دکان میں داخل ہو۔ وہ لمحات بڑے کٹھن تھے۔ مونی اور سونی کافی دیر تک وہیں دبکے رہے۔ جب دکان میں گاہکوں کی آمد ورفت کا سلسلہ شروع ہو گیا تو وہ چپکے سے دروازے تک آئے اور باہر دیکھا۔ وہاں اب کوئی بلی موجود نہیں تھی۔ انہوں نے موقعہ پاتے ہی باغ کی طرف سر پٹ دوڑ لگا دی۔ باغ میں پہنچ کر ہی انہوں نے سانس لی۔


 اب انہیں ایسا لگا جیسے اب کوئی خطرہ باقی نہ رہا ہو۔ وہ جلدی جلدی اپنے گھر کی طرف دوڑے جب وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے تو ان کے ممی پاپا نے انہیں گلے سے لگایا۔ سونی نے سب کچھ سچ سچ بتا دیا کہ وہ دکان میں گئے تھے اور وہاں پھنس گئے تھے۔ پاپا کو یہ سن کر بہت غصہ آیا اور انہوں نے دونوں کو خوب ڈانٹا۔ مونی کو ڈر کے مارے دبکا بیٹھا رہا۔ ان کی ممی نے انہیں پیار سے سمجھایا کہ ابھی ان کی عمر اتنی نہیں ہوئی کہ وہ باغ سے باہر تنہا


جاسکیں اس لئے وہ آئندہ ایسی غلطی کبھی نہیں کریں گے۔ دونوں نے وعدہ کیا کہ ہم آئندہ اپنی عمر سے بڑا کوئی کام نہیں کریں گے اور اپنے ماں باپ کا کہنا بھی خوب مانیں گے۔ دیکھا بچو! اگر کوئی اپنے ماں باپ کے حکم کی پرواہ نہیں کرتا تو وہ مشکل میں پھنس جاتا ہے۔ یہ صرف ماں باپ کی دُعا کا نتیجہ ہے کہ وہ مشکل ہمیں نقصان نہیں پہنچاتی ۔