Story Books in Urdu for child Aqal ka istemal Wishenow

Story Books in Urdu for child Aqal ka istemal Wishenow

Story books in urdu for child aqal ka istemal wishenow free

Story Books in Urdu for child Aqal ka istemal



نقل کا استعمال ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مولیوں اور گاجروں کے ایک کھیت کے کنارے دو خرگوش رہتے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بے حد خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے۔ ان کی دوستی بڑی مضبوط تھی ۔ ہر مشکل گھڑی میں وہ ایک دوسرے کا ساتھ دیتے۔

دونوں خرگوش سارا سارا دن کھیتوں میں گھسے رہتے اور کھیت میں سے گاجریں اور مولیاں نکال نکال کر خوب کھاتے رہتے۔ کھیت کا بوڑھا مالک ان سے بڑا تنگ تھا کیونکہ وہ کافی گاجریں اور مولیاں کھانے کے بجائے خراب کر کے باہر پھینک دیتے تھے۔

کھیت کا بوڑھا مالک انہیں پکڑنے سے معذور تھا کیونکہ ان کے پیچھے تیز بھاگ نہیں سکتا تھا۔ اس نے کئی بار کوشش کی کہ وہ خرگوشوں کو کسی طرح وہاں سے بھگا دے مگر وہ ہمیشہ ناکام رہا۔ بالآخر ایک دن کھیت کے مالک نے خرگوشوں کی حرکتوں سے تنگ آکر یہ فیصلہ کیا کہ وہ آئندہ مولیاں اور گاجریں کاشت نہیں کرے گا کیونکہ تمام فصل خرگوشوں کی وجہ سے خراب ہو جاتی تھی۔ کھیت کے مالک نے موسم سرما کے آغاز میں گوبھی کی فصل کھیت میں لگائی۔ 

کچھ ہی دن بعد گوبھی کے بڑے بڑے پتے زمین سے نمودار ہونا شروع ہو گئے ۔ خرگوشوں نے حسب عادت ان کی جڑوں میں مولیوں اور گاجروں کی تلاش شروع کی مگر وہاں انہیں کچھ نہ ملا۔ خرگوش مولیاں اور گاجر میں نہ پا کر بے حد پریشان ہوئے۔ مجبوری کے عالم میں وہ غذا کی تلاش میں ادھر ادھر نکل جاتے اور کچھ نہ کچھ ڈھونڈ کر گزارا کر لیا کرتے۔ کچھ دن تو یونہی بیت گئے پھر جاڑے کا سخت موسم شروع ہو گیا تو خرگوشوں کیلئے زندگی گزارنا دشوار ہو گیا۔

 کھیت میں کوئی ایسی آرام دہ جگہ موجود نہیں تھی کہ جس میں وہ گھس کر سردی سے محفوظ رہ پاتے ۔ اس کے علاوہ خرگوشوں کے پاس صرف ایک ہی سرخ رنگ کی باریک سی چادر تھی جس میں وہ دونوں دبک کر سردی سے بچنے کی کوشش کرتے ۔ چادر اتنی بڑی اور گرم نہیں تھی کہ ان دونوں کو سردی سے محفوظ رکھ پاتی۔ ایک دن ایک خرگوش نے یہ فیصلہ کیا کہ چادر کو دوہری کر کے ایک ساتھی اوڑھ لیا کرے جبکہ دوسرا اس دوران بھاگ دوڑ کر کے اپنا جسم گرم کر لیا کرے۔
 اس طرح کم از کم ایک خرگوش تو سخت سردی سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ دونوں خرگوش باری باری چادر اوڑھ کر گرمائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ۔ کھلے آسمان کے نیچے چاور زیادہ سودمند ثابت نہ ہوئی۔ سردی کے مارے ان کی جان نکلنے لگی۔ ایک دن ایک خرگوش کھیت کے نالے میں چادر اوڑھے ہوئے لیٹا پڑا تھا کہ وہاں کھیت کا بوڑھا مالک آ گیا۔ اس کی نظر جب سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے خرگوش پر پڑی تو اسے ترس آنے لگا مگر جب اسے اپنی فصل کی خرابی کا خیال آیا

 تو اس نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ گوبھی کے پتے ایسی مرغوب غذا نہیں تھی کہ خرگوش انہیں خراب کرتے ۔ بوڑھے مالک نے خرگوشوں کو بھگانے کے بجائے ان کے حال پر چھوڑ دیا کہ وہ خود ہی سردی سے مرکھپ جائیں گے۔ ایک دن ایک خرگوش کی نظر کھیت میں لگے پتلے پر پڑی تو اس کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔ پتلے پر گرم قمیض پڑی ہوئی تھی اور سر پر بڑا سا ہیٹ تھا۔ یہ کھیت میں پرندوں کو بھگانے کیلئے نصب کیا گیا تھا۔ گرم کپڑے دیکھ کر اس نے اپنے ساتھی کو فورا بلایا۔


 وہ دونوں قریباً بھاگتے ہوئے اس پتلے کے پاس پہنچے ۔ پہلے تو انہوں نے اپنی عقل پر افسوس کیا کہ کئی دن سے وہ پہلا وہاں موجود تھا مگر انہیں ذرا بھی اس کا خیال نہیں آیا۔ ایک خرگوش نے پتے کی نیلے رنگ کی موٹی قمیض اتار کر پہن لی جبکہ دوسرے نے سر کو سردی سے بچانے کیلئے پہلے کا ہیٹ پہن لیا۔ اس طرح انہیں سردی سے بچنے کیلئے کپڑوں کی تنگی سے نجات مل گئی تھی۔ پہلے کی ٹانگوں میں جوتے بھی تھے جو اوس پڑنے سے کافی بھیگ چکے تھے۔ ہیٹ لینے والے خرگوش نے وہ جوتے لے لئے

اور ان کا پانی نچوڑ کر انہیں پاؤں میں پہن لیا۔ زمین سے پہنچنے والی ٹھنڈک سے وہ محفوظ ہو چکا تھا۔ دونوں خرگوشوں نے سردی سے سکون ملنے پر خوراک کی تلاش شروع کر دی کیونکہ گاجروں اور مولیوں کے بغیر ان کی زندگی پھیکی پڑ چکی تھی۔ وہ دنوں خرگوش چلتے چلتے گوبھی کے کھیت میں پہنچ گئے ۔ ایک خرگوش نے گوبھی کا بڑا پتہ توڑا اور منہ میں ڈال کر چبایا ۔ وہ ذائقے میں پھس پھسا تھا۔ اس نے گوبھی کا پتہ وہیں پھینک دیا اور آگے بڑھ گیا۔ وہ دونوں چلتے چلتے کھیت کے مالک کے گھر کے قریب پہنچ گئے۔

اس طرف کبھی پہلے آنے کا انہیں اتفاق نہیں ہوا تھا۔ گھر کو دیکھ کر انہیں کسی قدر حوصلہ ہوا کہ یہاں انہیں کھانے پینے کا سامان ضرور مل جائے گا۔ وہ کچھ آگے بڑھے تو گرم گرم ہوا کی لہر نے ان کے بدن کو سکون بخشا۔ یہ گرم ہوا دیوار کی دوسری طرف سے آ رہی تھی۔ خرگوشوں نے جھانک کر اس طرف دیکھا تو انہیں وہاں ایک آتشدان جلتا ہوا دکھائی دیا جس کے قریب ایک بلی لیٹی آرام کر رہی تھی ۔ خرگوش گرمائی پا کر تو بے حد خوش ہوئے مگر بلی کو دیکھ کر وہ پریشان ہو گئے ۔ بلی کی موجودگی میں وہاں ٹھہرنا دشوار تھا۔ وہ دونوں دیوار کی اوٹ میں دبک کر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد جب بلی وہاں سے اُٹھی اور ایک طرف چل دی تو وہ دونوں خرگوش اس کے تعاقب میں چل پڑے۔

 بلی ایک کمرے میں داخل ہوئی اور اس نے وہاں ایک طرف پڑے ہوئے برتن میں سے دودھ پیا اور قریب موجود چھوٹے سے ٹوکری نما گھر میں گھس گئی جو سرکنڈوں سے بنایا گیا تھا۔ یہ بلی کو سردی سے محفوظ رکھتا تھا۔ خرگوشوں نے جب بلی کا گھر دیکھا تو انہیں بڑا رشک آیا کہ ان کے پاس ایسا گھر کیوں نہیں ہے؟ خرگوشوں کو سخت بھوک لگی ہوئی تھی ۔ انہوں نے گھر کا خیال چھوڑ کر خوراک کی تلاش میں کمروں کے اندر میں گھومنا پھرنا شروع کر دیا۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں انہیں انہیں کئی بوریاں دکھائی دیں،


 شاید یہ گودام تھا۔ کچھ دیر کوشش کے بعد انہیں گاجروں کی ایک بڑی بوری مل گئی۔ جس میں سے گاجر میں باہر نکلی پڑی تھی۔ گاجریں دیکھ کر خرگوشوں کے منہ میں پانی بھر آیا۔ انہوں نے فورا ان پر دھاوا بول دیا۔ ایک خرگوش کچھ سمجھدار واقع ہوا تھا۔ اس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ انہیں لالچ سے کام نہیں لینا چاہئے کیونکہ معلوم نہیں سردیوں کا موسم کب ختم ہوگا اور مالک کب کھیت میں گاجریں بوئے گا؟ اس لئے انہیں احتیاط سے خوراک استعمال کرنا چاہئے

 تا کہ سردی کا موسم بھی بیت جائے اور خوراک کی کمی بھی نہ ہو۔ دوسرے خرگوش نے اس کی بات سے مکمل اتفاق کیا اور پھر دونوں نے تھوڑی مقدار میں گاجریں کھائی۔ پیٹ جب بھر گیا تو انہیں رہنے کی فکر لاحق ہوئی۔ کمروں میں کوئی ایسی محفوظ جگہ نہیں تھی جہاں وہ دبک کر پڑے رہتے۔ دوسرا یہ کھیت کے مالک کا گھر تھا اگر وہ انہیں دیکھ لیتا تو انہیں پکڑنے میں اسے زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی سمجھدار خرگوش نے دوسرے سے کہا کہ بلی کچھ زیادہ بڑی نہیں ہے۔

 اگر اسے ڈرا دیا جائے تو وہ اپنے گھر سے دستبردار ہوسکتی ہے۔ دوسرے خرگوش نے پوچھا کہ بلی کو کیسے ڈرایا جائے؟ سمجھدار خرگوش نے کہا کہ میرے ذہن میں ایک ترکیب ہے اگر یہ کارگر ہوئی تو ان کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ وہ دونوں بلی کے ٹوکرے نما گھر کے قریب پہنچے۔

سمجھدار خرگوش نے گھر کی دیوار سے منہ لگا کر عجیب عجیب سی آوازیں نکالیں ۔ بلی اندر آرام سے سورہی تھی ۔ اس نے جب آوازیں سنی تو وہ خوفزدہ ہو کر اُٹھ بیٹھی۔ وہ ابھی آوازوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ سمجھدار خرگوش نے ایک بڑی سی ٹہنی ہاتھ میں لی اور جست لگا کر گھر کے اندر گھس گیا۔ بلی اسے دیکھ کر سہم سی گئی ۔ خرگوش نے ٹہنی زور سے بلی کی ناک پر دے ماری۔ بلی کی ناک بڑی نازک ہوتی ہے اس لئے بلی پھدک کر گھر سے باہر نکل گئی۔

 وہ ان خرگوشوں سے بری طرح ڈر چکی تھی۔ دونوں خرگوشوں نے اس کے گرم گھر پر قبضہ جمالیا۔ وہاں وہ سردی سے محفوظ رہ سکتے تھے کیونکہ قریب ہی آتشدان بھی موجود تھا جس کی گرم گرم لہریں کمرے کو گرم رکھتی تھیں ۔ بلی نے بھی حالات سے سمجھوتہ کر لیا۔ اس نے اپنا گھر ہمیشہ کیلئے خرگوشوں کے حوالے کر دیا تھا اور خود اس کی چھت پر اپنا بسیرا کر لیا تھا۔